اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جلال طالبانی نے عراقی صدر جمہوریہ نے نجف میں آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے مذاکرات کی تفصیل بیان کی۔ : حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی نے عراقی عوام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے پر زور دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ سرکاری اداروں میں موجودہ بدعنوانیوں کا مقابلہ کرے۔ صدر عراق نے کہا: آیت اللہ العظمی سیستانی شیعیان عالم کے عظیم ترین مراجع میں سے ایک اور ہمارے زمانے کے بہترین انسانوں میں سے ایک ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کے صدقے عراقی عوام کو عظیم ترین نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ عراقی عوام کے لئے خدا کی بہترین نعمت ہیں۔انھوں نے کہا: آیت اللہ العظمی سیستانی نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ عراقی عوام کی ہر قسم کی خدمت کرے اور تمام وزارت خانوں اور اداروں کو بدعنوانیوں سے پاک کرے اور حکومتی اداروں میں امتیازی رویوں کا خاتمہ کرے۔جلال طالبانی نے کہا: میں نے آیت اللہ العظمی سیستانی سے وعدہ کیا ہے کہ وہ خود بھی ان مقاصد کے حصول کے لئے تمامتر کوششیں بروئے کار لائیں گے اور عراق کی نئی حکومت بھی ان مقاصد کے حصول کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی۔عراقی ذرائع ابلاغ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صدر طالبانی نے عراق کے "فیلی کردوں" اور عراقی عیسائیوں کی صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ آیت اللہ العظمی سیستانی کی خدمت میں پیش کی اور شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی نے شیعہ، سنی، عیسائیوں، کردوں اور دیگر اقوام و مکاتب کے پیروکاروں سمیت تمام عراقیوں کو "مظلوم عراقی برادران" کا خطاب دیا اور انھوں نے حال ہی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں عراقی عیسائیوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ صدر جلال طالبانی نے آیت اللہ العظمی سیستانی سے بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نجف اشرف کو "علم و تہذیب" کا شہر قرار دیا اور اس کے بعد آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم اور دیگر مراجع تقلید نیز صدر گروپ کے سربراہ "سید مقتدا صدر" سے ملاقات اور بات چیت کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
/110