14 دسمبر 2010 - 20:30

اسرائیل نے امریکا سے کہا تھا کہ دو ہزار دس بہت اہم سال ہے ۔ اگر ایران نے اپنی ایٹمی سائٹس کو محفوظ اور مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں تو انہیں نشانہ بنانا اور نقصان پہنچانا مشکل ہوگا۔

ابنا: یہ بات نومبر 2009 میں اسرائیل اور امریکا کے جوائنٹ پولیٹیکل ملٹری گروپ کے ایگزیکٹو سیشن میں کہی گئی۔ تل ابیب میں امریکی سفارت خانے سے 18 نومبر دو ہزار نو کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق اجلاس میں اسرائیل کو جی بی یو 28 بنکر بسٹنگ بموں کی مجوزہ فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں طے کیا گیا کہ یہ بم خاموشی سے فراہم کئے جائیں گے تاکہ ان الزامات سے بچا جاسکے کہ امریکی حکومت ایران پر حملے کے لئے اسرائیل کی تیاری میں مدد کررہی ہے۔

اسرائیلی حکومت نے سعودی عرب کو ایف 15 طیاروں کی فروخت اوران طیاروں کو اسرائیلی سرحد کے قریب تبوک میں رکھنے کے منصوبے پر گہری تشویش ظاہر کی تاہم امریکی حکام نے کہا کہ اس بات کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ سعودی حکومت تبوک میں نئے ٹائی فون طیارے رکھنے پر غور کررہی ہے۔

........

/110