14 دسمبر 2010 - 20:30

دہشت گرد صرف جلسے جلوسوں اور ان جلسے جلوسوں میں شریک ہونے والے شیعیان اہل بیت(ع) کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور اس ملک کے پرچم اور اس کے عالمی تشخص سمیت سیکورٹی فورسز، فوج اور خفیہ اداروں کے بھی دشمن ہیں؛ مثالیں بہت زیادہ ہیں جو سب کے سامنے ہیں لیکن جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ سیکورٹی کی موجودہ پالیسی امام حسین(ع) کی پیغام رسانی کی روح کے خلاف ہے اور...

ابنا: فلیگ مارچ کے شرکا نے محرم کے جلوسوں کے راستوں کچہری روڈ، موہنی بازار، چکرہ بازار، لیاقت آباد اور پرانہ نوابشاہ کا گشت کیا۔ فلیگ مارچ میں پولیس اور رینجرز کی موبائلوں کے علاوہ موٹر سائیکل سوار دستے بھی شامل تھے۔ شہر کے داخلی راستوں پر پولیس کی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز کے جوان مشکوک افراد اور گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔

محرم الحرام:ہنگو کو حساس ترین علاقہ قراردیدیا گیا  خیبر پختونخواہ کے ضلع ہنگو کومحرم الحرام کے حوالے سے حساس ترین علاقہ قراردیاگیا ہے۔ یہاں سات سے دس محرم تک سخت حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے بازار سیل ہیں، اہم شاہراؤں پر خاردار تارلگادیئے گئے ہیں۔ہنگو میں سات محرم سے ہی تمام بازار سیل کردیئے گئے ہیں جو دس محرم تک بند رہیں گے۔علاقے میں ایک مرکزی امام بارگاہ پاس کلے میں واقع ہے جبکہ دیگر چھ امام بارگاہ قائم ہیں جن کے اردگردخاردار تاریں لگا کر تمام راستے سیل کردیئے گئے ہیں اور ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدروفت بندہے۔ انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے تمام پولیس اہلکاروں پر دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے اورفضا میں مسلسل ہیلی کاپٹر گشت کررہے ہیں۔ 

محرم الحرام،ملک بھر میں مجالس، نوحہ خوانی اور عزاداری  آٹھ محرم الحرام پر یاد حسین کو زندہ کرتے ہوئے مجالس عزا اور جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے، اس موقع پر سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جلوسوں کی گذرگاہوں پر کلوز سرکٹ کیمرے اور داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، بعض مقامات پر جلوسوں کی ہیلی کاپٹرز سے بھی نگرانی کی جائے گی۔ خیرپور میں شہدائے کربلا کی یاد میں ظہرین کے بعد تاریخی جلوس نکالا جائے گا، جس میں کراچی، حیدرآباد اور ملک بھر سے عزاداران شریک ہوگے۔ جلوس کو مانیٹر کرنے کے لئے شہر بھر میں کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں۔روہڑی میں آٹھ اور نو محرم کی درمیانی شب قدیم تعزیہ نکالا جائے گا، جس میں سکھر اور بالائی سندھ سمیت ملک بھر سے عزا داروں کی بڑی تعداد شریک ہوگی، اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ رضاکار بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔ میرپورخاص کی پندرہ سے زائد امام بارگاہوں اور عزاخانوں میں مجالس اور نوحہ خوانی کے اجتماعات ہوں گے، مختلف مقامات سے علم و ذوالجناح اور گہوارہ حضرت علی اصغر کے جلوس برآمد کیے جائیں گے۔ بدین میں آٹھ محرم الحرام کے حوالے سے رات گئے مرکزی امام بارگاہ زینیبیہ سے جلوس برآمد ہوا، جو شہر کے مخصوص راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ زہرہ بتول (س) پر اختتام پذیر ہوا۔ ہنگو میں مرکزی چوک شاہوروڈ سے کچ پھاٹک تک شہر سیل کردیاگیا ہے، شہر میں ہیلی کاپٹروں کا گشت اور حساس مقامات پر راہ گیروں کی تلاشی لی جارہی ہے۔کراچی:8محرم الحرام کے جلوس کے انتظامات  کراچی میں 8 محرم الحرام کا جلوس آج دوپہرنشترپارک سے برآمد ہوگا جو مقررہ راستہ سے ہوتا ہوئے حسنییہ ایرانیاں امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ اس سلسلے میں ایم اے جناح روڈ اور دیگر راستے ٹریفک کے لئے مکمل بند رہیں گے۔ آٹھویں محرم الحرام1432 ہجری کا جلوس آج دوپہر نشترپارک سے برآمد ہوگا۔ جوامام بارگاہ محفل شاہ خراساں سے نمائش چورنگی، ایم اے جناح روڈپہنچے گا۔ جہاں سے جلوس سیونتھ ڈے اسپتال سے منسفیلڈ اسٹریٹ پر آئے گا اور ایمپریس مارکیٹ سے پریڈی اسٹریٹ اور ریگل چوک سے گذر کر دوبارہ ایم اے جناح روڈ پر آئے گا۔ جلوس ڈاؤ میڈیکل کالج سگنل سے بابائے اردو روڈ، نشترروڈ سے ہوتا ہوا بھیم پورہ میں امام بارگاہ بارہ امام پہنچے گا۔ جس کے بعد جلوس ساؤتھ نیپئر روڈ سے گذر کر دوبارہ ایم اے جناح روڈ پہنچے گا اور بولٹن مارکیٹ،بمبئی بازارکھارادر سے حسینیہ امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ 8، 9اور 10محرم کے جلوسوں کی حفاظت کے نکتہ نظر سے ایم اے جناح روڈ سمیت جلوس کے راستوں کو تین دن کے لیے کنٹینرز، بسیں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے مکمل بند کیا گیا ہے جبکہ جلوس کے راستے میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکزبھی بند کردیئے گئے ہیں، جلوس کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور حساس اداروں کی 130 ، پولیس کی 290 سے زائد اور شہری حکومت سمیت دیگر ایمبولنسز سروسز کی 65 گاڑیوں کو خصوصی اسٹیکرز جاری کیے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لئے ایکشن پلان بھی جاری کیا گیا ہے۔کراچی : محرم کے سلسلے میں ایم اے جناح روڈ ٹریفک کیلئے تین دن بندکراچی…کراچی میں محرم الحرام کے سلسلے میں ایم اے جناح روڈ کو عام ٹریفک کے لیے تین دن بند کردیا گیا ہے جبکہ دکانیں اور کاروباری مراکز کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔ محرم الحرام کے جلوس کے سلسلے میں ایم اے جناح روڈ کو تین دن کے لیے کنٹینرز، بسیں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے عام ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جبکہ جلوس کے راستے میں آنے والی تمام دکانیں اور کاروباری مراکزبھی بند کردیئے گئے ہیں۔۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز کی100 گاڑیوں کو، حساس اداروں کی 30 ، پولیس کی 290 سے زائد اور شہری حکومت سمیت دیگر ایمبولنسز سروسز کی 65 گاڑیوں کو خصوصی اسٹیکرز جاری کیے گئے ہیں، 8 محرم الحرام کا جلوس دوپہر 12 بجے نشتر پارک سے برآمد ہوگا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر میں اختتام پزیر ہوگا۔  کراچی:جلوس کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار پراسرار طور پر ہلاک  آٹھویں محرم الحرام کے جلوس کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق پولیس ٹریننگ کالج رزاق آباد کا اہلکار اعجاز علی جو آج صبح آٹھویں محرم کے جلوس کے راستے صدر ٹاوٴن میں ایم اے جناح روڈ پر سعید منزل کے قریب تعینات تھا جو ڈیوٹی کے دوران اچانک گر گیا جسے فوری طور پر سول اسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اسپتال پہنچنے سے قبل ہی اس کی موت ہوچکی تھی،ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاش پر بظاہر کوئی نشان نہیں ہے تاہم اس کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی۔متوفی لیمارکیٹ کا رہائشی تھا۔کوئٹہ میں عاشورہ کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات  کوئٹہ میں عاشورہ کے لئے سیکورٹی کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ۔ جلوس کے موقع پر شہر میں پولیس ،بلوچستان کانسٹبلری،ایف سی کے ساتھ ساتھ فوج کی ایک بریگیڈ بھی تعینات کی جائے گی۔ کوئٹہ میں دسویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس علمدار روڈ کے رحمت اللہ چوک سے برآمد ہوگا جو مشن روڈ،میزان چوک ،لیاقت بازار،پرنس روڈ ،میگانگی روڈ سے ہوتا ہوا علمدار روڈ پر اختتام پذیر ہوگا ۔عاشورہ کے جلوس کیلئے کوئٹہ میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں جلوس کو جانے والے تمام راستے سیل کردئیے جائیں گے اور کسی کوعجب خان پل کے علاوہ آمدورفت کی اجازت نہیں ہوگی۔دسویں محرم کے دوران کوئٹہ میں تین ہزار 8سو پولیس اہلکار،پولیس کانسٹیبلری کی 70پلاٹون، ایف سی کی 62پلاٹون جبکہ پاک فوج کی ایک بریگیڈ کوبھی تعینات کیا جارہا ہے۔ فوج کی یہ ایک بریگیڈ حساس مقامات پر تعینات ہوگی۔ دسویں محرم کے جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔ جبکہ جلوس کے ہمراہ 25جامرز بھی چلیں گے ۔ فرنٹئیر کور کی باقاعدہ62پلاٹون کو لگایا جائے گا پولیس اور بلوچستان کانسٹبلری کے ساتھ فوج کا ایک بریگیڈ اسٹینڈ بائی ہے ان میں سے کچھ نفری حساس مقامات پر تعینات ہوگی۔ کوئٹہ میں عاشورہ کے جلوس کیلئے جہاں پولیس ایف سی ،فوج سکیورٹی کے فرائض انجام دے گی وہاں بلوچستان شعیہ کانفرنس کے چودہ سو رضا کار بھی جلوس کے ہمراہ ہوں گے بلوچستان شعیہ کانفرنس کے رہنما عاشورہ کیلئے کئے گئے حفاظتی انتظامات سے مطمئن نظر آتے ہیں۔۔ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی عاشورہ کے جلوس نکالے جائیں گے ان شہروں میں بھی سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ کراچی: محرم الحرام میں ہم آہنگی،متحدہ کے رہنماؤں کی علماء سے ملاقاتیں جاری  متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ہدایت پرایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، منتخب حق پرست عوامی نمائندوں اور ایم کیو ایم کے ذمہ داران پرمشتمل وفدکی جانب سے محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے، بھائی چارے کے فروغ اور قیام امن و امان کیلئے علمائے کرام سے ملاقاتوں اور مجالس میں شرکت کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں گزشتہ روز ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان سیدشعیب احمدبخاری اور رضا ہارون کے ہمراہ حق پرست صوبائی وزیر اوقاف عبدالحسیب نے علامہ عباس کمیلی اور علامہ حافظ محمدسلفی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ملاقات کے دوران ایم کیوایم کے وفدکے ارکان نے علمائے کرام کو قائد تحریک الطاف حسین کا خصوصی سلام پہنچایا اور ان سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران اتحاد بین المسلمین پرعمل پیرا ہو کر اپنی تقریروں میں اشتعال انگیز گفتگو سے گریز کر یں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن و امان کیلئے باہمی اتحاد کے سلسلے میں آپس میں رابطوں پر مزید زور دیں اور ایک دوسرے کا دل سے احترام کریں۔

بشکریہ از جنگ ڈاٹ نیٹ / اردو

تبصرہ:

یہ یقینی امر ہے کہ اہل تشیع محرم کے دوران شہدائے کربلا کی یاد مناتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام کا پیغام بنی نوع انسان کے تمام افراد تک پہنچ سکے اور اہل تشیع کی نیت یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ بازار اور شہر بند ہوں اور جو لوگ عاشورا کی مجالس اور جلوسوں میں شرکت نہیں کرنا چاہتے انہیں گھروں میں بند کیا جائے بلکہ یہ ایک سرکاری پالیسی ہے جس کا مقصد عوام کے درمیان فاصلے بڑھانے اور فرقہ وارانہ ہماہنگی کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوسکتا. حکومت کو اپنے ملک میں امن قائم کرنی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے لیکن جب سڑکوں پر عوام ہونگے ہی نہیں تو امن کے قیام کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟ اور پھر کیا آج تک شہروں کو بند کرنے اور سڑکوں کو بلاک کرنے کے باوجود حکومت امن و امان برقرار کرنے میں کامیاب رہی ہے؟ اور کیا اتنی ناکامیوں کے باوجود حکومت نے محرم کے دوران قیام امن کی اپنی گھسی پھٹی اور ناکام پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا حکومت واقعی امن قائم کرنے میں مخلص ہے؟ یا پھر صرف اس ملک کے عوام کے درمیان خلیج بڑھانے کی نیت سی یہ سب کچھ کررہی ہے جبکہ دہشت گردوں پر نہ تو کوئی پابندی ہے اور نہ ہی ان کے لئے کوئی قانون ہے جس کے ذریعے انہیں قانون کے کٹہرے میں پہنچا کر سزا دی جائے۔ یہاں تک کہ عدالت میں بھی ان کے لئے چھوٹ ہے اور ان پر مقدمہ نہیں چلایا جاتا اور اگر کوئی بھی شخص کسی دہشت گرد کی ضمانت کرنا چاہے تو عدالتین اسے ضمانت پر رہا کردیتی ہیں – گویا عدالتیں انہیں رہا کرنے کے لئے ہ