27 ستمبر 2026 - 16:46
ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی 26 نئی شقیں پیش کردیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایوانِ نمائندگان کے ایک ڈیموکریٹ رکن کی جانب سے مواخذے کی 26 نئی شقوں کا سامنا ہے، جن میں ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال، صدارتی حلف کی خلاف ورزی اور دیگر متعدد مبینہ بدعنوانیوں اور بدسلوکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ اور ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے سینئر رکن اسٹیو کوہن نے یہ شقیں 24 ستمبر کو پیش کیں، جو ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ال گرین کی جانب سے مواخذے کی ایک الگ کوشش مسترد کیے جانے کے صرف 9 روز بعد پیش کی گئی ہیں۔

نیوزویک کے مطابق، یہ تازہ ترین کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹس کے درمیان ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی آگے بڑھانے کے معاملے پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔

ایوانِ نمائندگان نے 232 کے مقابلے میں 147 ووٹوں سے ال گرین کی قرارداد مسترد کردی۔ 18 ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کا ساتھ دیا جبکہ ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ قیادت سمیت 47 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

کوہن کی قرارداد ال گرین کی قرارداد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ وسیع ہے۔ اس کی 26 شقوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں، فوجی اختیارات کے استعمال، وفاقی اخراجات، محصولات، صدارتی معافیوں، وفاقی ملازمین، جامعات، قانونی کمپنیوں، میڈیا اور صدارت کے ذریعے ذاتی مالی فائدہ حاصل کرنے کے مبینہ معاملے سمیت مختلف امور شامل ہیں۔

پہلی شق میں ٹرمپ پر انتخابات کے حوالے سے شکوک پیدا کرکے ’’جمہوریت کو کمزور کرنے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے، جبکہ دوسری شق میں کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ ایک اور شق وینزویلا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ماورائے عدالت قتل سے متعلق ہے، جبکہ چوتھی شق میں امریکی شہروں کے خلاف فوجی دستوں کی تعیناتی کو ہدف بنایا گیا ہے۔

امیگریشن کا معاملہ بھی اس قرارداد میں نمایاں طور پر شامل ہے۔ ان شقوں میں ٹرمپ کے پیدائشی شہریت سے متعلق صدارتی حکم نامے اور حکومت کی جانب سے غیر ملکی دشمنوں سے متعلق قانون کے استعمال کے ذریعے ’’کیلمار آبیرگو گارسیا‘‘ کو ایل سلواڈور بھیجنے کے معاملے کو ہدف بنایا گیا ہے۔

ان میں ایل سلواڈور کی جیلوں کے حالات سے متعلق مسائل بھی اٹھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ واشنگٹن امیگریشن کے نفاذ کے سلسلے میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اسی طرح ٹرمپ پر کانگریس کی جانب سے منظور شدہ فنڈز کو غیر قانونی طور پر روکنے، وفاقی ملازمین پر وفاداری کے امتحانات عائد کرنے، انسپکٹر جنرلز کو غلط طور پر برطرف کرنے اور صدارتی معافی کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

کوہن نے میڈیا، قانونی کمپنیوں اور جامعات کے ساتھ ٹرمپ کے معاملات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دو شقوں میں امریکی صدر کو آزادیٔ صحافت پر حملے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جن میں خبروں کی کوریج کی بنیاد پر صحافیوں کو وائٹ ہاؤس سے نکالنا اور بظاہر سی بی ایس اور اے بی سی کو اپنے ادارتی مواد میں تبدیلی پر مجبور کرنا شامل ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے آزادیٔ صحافت کی خلاف ورزی کا معاملہ وائٹ ہاؤس سے سی این این، ایم ایس این بی سی اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو نکالنے کے حوالے سے جاری قانونی تنازع کے دوران اٹھایا گیا ہے، جبکہ ان تینوں میڈیا اداروں نے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے۔

مواخذے کی دیگر شقوں میں قانونی کمپنیوں کے خلاف انتظامی اقدامات اور جامعات کے وفاقی فنڈز روکنے کے معاملات شامل ہیں۔ آخری شق میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ’’صدارت کے دوران ذاتی اور براہ راست فائدہ‘‘ حاصل کرکے آمدنی سے متعلق آئینی دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم، کوہن کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں موجود معاملات بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ ٹرمپ نے ایسے جرائم کیے ہیں جن کی بنیاد پر ان کا مواخذہ کیا جا سکتا ہے۔

کوہن نے ایک پریس بیان میں کہا: ’’ٹرمپ ہمارے ملک کے کسی بھی دوسرے صدر سے زیادہ مواخذے کے مستحق ہیں۔ ان کی صدارت کا جاری رہنا ہماری جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ کانگریس میں چاپلوس ریپبلکن اکثریت اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوجاؤں۔ میں نے آئین کی حمایت اور دفاع کے لیے آزادانہ حلف اٹھایا ہے۔ یہی عہد مجھے آج یہ قرارداد پیش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب مورخین اس دور کے بارے میں لکھیں گے اور ووٹر پوچھیں گے کہ صدر ٹرمپ کی قانون شکنی کے سامنے کون کھڑا ہوا تھا، تو یہ قرارداد اس کا جواب ہوگی۔‘‘

کوہن نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اس اقدام کے آگے بڑھنے کا امکان کم ہے، کہا: ’’میں جانتا ہوں کہ یہ کہیں نہیں پہنچیں گی، لیکن میں اپنے ووٹرز اور جمہوریت کے لیے کھڑا ہونا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

یہ قرارداد ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب ڈیموکریٹس کے درمیان مواخذے کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ نئی قرارداد ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹس کے درمیان مواخذے کی کارروائی کے طریقہ کار اور وقت کے حوالے سے واضح اختلافات کے دوران پیش کی گئی ہے۔

ستمبر میں گرین کی کوشش بہت محدود تھی اور اس کا مرکز ٹرمپ حکومت کی امیگریشن پالیسی پر کریک ڈاؤن تھا۔ ان کی قرارداد میں ٹرمپ کو امیگریشن آپریشنز کے سلسلے میں صدارتی اختیارات کے ناجائز استعمال کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، جن میں وفاقی افسران نے متعدد شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ حکومت نے ان افسران کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنی جانوں کا خوف تھا اور انہوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں نے گرین کی کوشش کی حمایت نہیں کی اور کہا کہ مواخذے کی کارروائی ان رسمی تحقیقات اور سماعتوں کے بعد ہونی چاہیے جو ابھی تک منعقد نہیں ہوئی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے پارلیمانی لیڈر نے بھی گرین کی قرارداد پر ووٹنگ سے کچھ دیر قبل کہا تھا کہ مواخذہ ایوان کے ڈیموکریٹس کے ایجنڈے میں سرفہرست نہیں ہے۔

کوہن اور گرین دونوں ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کرنے کی سابقہ تاریخ رکھتے ہیں جو ان کی پہلی صدارتی مدت تک جاتی ہے۔ کوہن نے نومبر 2017 میں، جب وہ آئین اور شہری انصاف سے متعلق ایوان کی عدالتی ذیلی کمیٹی کے سینئر رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی پانچ قانونی شقیں پیش کی تھیں۔

گرین نے بھی ٹرمپ کی صدارت کے پہلے سال کے دوران مواخذے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے 2017 میں مواخذے کی ایک قرارداد پیش کی اور ٹرمپ پر ایسے رویے کا الزام عائد کیا تھا جو گرین کے مطابق تعصب اور نفرت کو ہوا دیتا تھا اور صدارت کو بدنام کرتا تھا۔

ٹرمپ کو اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایوانِ نمائندگان کی جانب سے دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

مواخذے کی تازہ 26 شقوں والی قرارداد کا یہ مطلب نہیں کہ ٹرمپ کا دوبارہ مواخذہ ہو گیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان کا کوئی رکن مواخذے کی شقیں پیش کر سکتا ہے، لیکن مواخذہ اس وقت ہی ہوتا ہے جب ایوانِ نمائندگان کم از کم ایک شق کی منظوری کے حق میں ووٹ دے۔

کوہن کی یہ کوشش ایسے ایوانِ نمائندگان میں پیش کی گئی ہے جس پر ریپبلکنز کا کنٹرول ہے، جبکہ ال گرین کی حالیہ قرارداد پر ووٹنگ سے ظاہر ہوا کہ ڈیموکریٹس بھی ایک اور مواخذے کی کوشش کے معاملے پر متحد نہیں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha