اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طالبان دہشت گردوں نے افغانستان سے کرم ایجنسی کے علاقے شلوزان پر کئی میزائل فائر کئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 3 عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام شہید ہو ئے ہیں جبکہ 6 عزادار زخمی ہوئے ہیں۔
شلوزان میں اتوار کی صبح عزاداران سید الشہداء مجلس عزاء سے نکل کر گھروں کی سمت جا رہے تھے کہ اچانک افغانستان سے طالبان دہشت گردوں نے عزاداران سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر کئی میزائل فائر کئے جس کے نتیجے میں 4 عزاداران فرزند رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہید ہو گئے جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب سے کرم ایجنسی کے شیعہ قبائل نے اس سانحے کی تمام تر ذمہ داری ناصبی اور یزید صفت کرنل توصیف پر عائد کی ہے جو کہ سرحد پار اور پاکستان کے اندر طالبان دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے تا کہ طالبان دہشت گرد عاشقان امام حسین علیہ السلام پر دہشت گردانہ حملے کرتے رہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلی بھی حکومت شلوزان کو حقانی گروپ اور دیگر طالبان ٹولوں کے اڈے میں تبدیل کرنا چاہتی تھی چنانچہ حال ہی میں اس علاقے پر طالبان کے شدید حملے کرائے گئے مگر ان حملوں میں ناکامی اور طالبان کو کرم ایجنسی کے راستے افغانستان کی جانب راستہ دینے سے پاراچنار کے قبائل کے کھلے انکار کے بعد شیعہ باشندوں کے خلاف نئے حملوں کا آغاز ہوگیا ہے اور کرنل توصیف اس سلسلے میں ـ نہ جانے کس کے کہنے پر (!؟) ـ لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے پر تلا ہوا ہے۔
کرنل توصیف کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کچھ جی ایچ کیو کی ہدایت پر کررہا ہے۔
شیعہ رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ روز عاشورا کرنل توصیف کے دہشت گردانہ اقدامات اور اس کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کی حمایت کے خلاف شدید احتجاج بھی کریں گے۔
دریں اثناء کرم ایجنسی میں مجالس امام حسین علیہ السلام کا سلسلہ جاری ہے اور پاراچنار کی 382 سے زائد امام بارگاہوں میں مجالس سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا منعقد ہورہی ہیں۔ جلوس ہائے عزاء 7محرم تا 10محرم الحرام تک نکالے جائیں گے جن میں لاکھوں عاشقان امام حسین علیہ االسلام و عزاداران سید الشہداء حصہ لیں گے۔
واضح رہے کہ کرم ایجنسی میں مجالس عزاء کا سلسلہ 3محرم الحرام سے شروع ہو کر 13محرم الحرام تک جاری رہتا ہے جبکہ 8ربیع الاوال تک مختلف اوقات میں مجالس عزاء کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
روز عاشور مختلف علاقوں میں جلوس نکالے جاتے ہیں اور پاراچنار میں مرکزی جلوس عزاء نکالا جاتا ہے جو کہ200سالہ قدیم تاریخی جلوس ہے۔ جبکہ تشیع کی تاریخ اس علاقے میں ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے چنانچہ عزاداری کی تاریخ بھی اتنی ہے پرانی ہے۔ یہاں مذہب اہل بیت (ع) غزنوی دور سے طلوع ہوا ہے جب بعض بزرگ سادات نے اس علاقے کا رخ کیا اور یہیں پر قیام پذیر ہوئے۔
ایک روایت کے مطابق بر صغیر پاک و ہند کی پہلی امامبارگاہ بھی شلوزان میں تعمیر ہوئی تھی۔
روز عاشورائے امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے کرم ایجنسی پاراچنار میں نکالا جانے والے جلوس عزاداری نہ صرف شیعیان حیدر کرار کے لئے اہمیت کا حامل ہے بلکہ علاقے میں آباد اقلیتوں بشمول ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے لئے بھی اہمیت کا حامل ہے جن کا یہ عقیدہ ہے کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام انسانیت کے نجات دہندہ ہیں، تاہم کرم ایجنسی پاراچنار میں بسنے والے سات لاکھ سے زائد عوام طالبان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور طالبان دہشت گردوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پاراچنار کے سنی باشندے بھی وہابیت اور دیوبندیت آنے سے قبل جلوس ہائے عزاداری میں شرکت کیا کرتے تھے اور راقم الحروف نے خود بھی سنی نوجوانوں کو سینہ زنی کرتے اور سنی خاندانوں کو سبیلیں لگاتے دیکھا تھا لیکن یہ صورت حال افغانستان سے مہاجرین کی آمد اور عرب ممالک سے وہابیت کی آمد کے بعد یکسر تبدیل ہوئے اور اس وقت جاری جنگ کا آغاز بھی اس وقت ہوا جب آج سے چار سال قبل شیعہ آبادی کے شہر پاراچنار میں "یزیدیت زندہ باد اور حسینیت مردہ باد کے نعرے لگائے گئے جس کا مقصد علاقے کو آگ و خون سے دوچار کرنا تھا اور اجنبی طاقتوں کے ایجنٹ اپنے اس مقصد میں کامیاب لیکن پاراچنار کو پیروان اہل بیت رسول (ص) سے خالی کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔
پاراچنار میں مجالس امام حسین علیہ السلام کے انعقاد کے ساتھ ساتھ شیعہ تنظیموں، تحریک حسینی، دستہ امامیہ، مجلس علمائے اہل بیت(ع)، انجمن حسینیہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے عطیہ خون کے کیمپ بھی لگائے گئے ہیں جبکہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کے لئے سبیل ہائے حضرت علی اصغر علیہ السلام کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
علماء و ذاکرین حضرات مجالس امام حسین علیہ السلام میں فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام اور مقصد کربلا پر روشنی ڈال رہے ہیں۔
مجالس عزاء میں خطاب کرتے ہوئے علماء و ذاکرین شہدائے پاراچنار کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کررہے ہیں جنہوں نے یزیدی طالبان دہشت گردوں سے نبرد آزما ہو کر نہ صرف دین مبین کی حفاظت کی بلکہ پاراچنار کے معصوم اور نہتے عوام کا دفاع بھی کیا۔
نیز علماء و ذاکرین عظام مجالس امام حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ گذشتہ چار برس سے جاری طالبان دہشت گردوں کے محاصرے کو فی الفور ختم کروایا جائے اور ٹل پاراچنار سڑک کی بندش ختم کروا کر عوام الناس کے لئے کھولی جائے۔
یادرہے کہ اس وقت پاراچنار میں امن و سلامتی کے قیام اور محاصرے کے خاتمے کو اس بات سے مشروط کیا گیا ہے کہ "پاراچنار کے شیعہ قبائل اس بات کی ضمانت فراہم کریں کہ وہ طالبان کو افغانستان میں گھسنے کے لئے راستہ دیں گے" مگر حکومت یہ مطالبہ کرکے یہ بات بهی زور دے کر کہہ رہی ہے کہ "پاراچنار سے تل کا راستہ کهول دیا جائے گا لیکن حکومت اس راستے میں شیعہ مسافرین کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے گی۔
اس رپورٹ میں شیعیت نیوز کے دو رپورٹوں سے استفادہ کیا گیا اور ہم شیعیت نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
13 دسمبر 2010 - 20:30
News ID: 216855
پاراچنار شہر سے 5 میل دور پاک افغان سرحد کے قریب شلوزان کے علاقے میں طالبان دہشت گردوں کے میزائل حملے میں 4 عزدار شہید جبکہ 6 زخمی ہو گئے ہیں۔