اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دھماکہ اُس وقت کیا گیا جب کوہاٹ آئے ہوئے مسافرین شہر میں اپنے روزمرہ کے کام سے فارغ ہوکر تیراہ واپسی کے لئے کوچ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ حادثہ کوچ کے اندر یا اس کے نیچے رکھے ہوئے بم کے پھٹ جانے سے رونما ہوا اور ذرائع ابلاغ کی ابتدائی رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ بم گاڑی کے اندر ہی رکھا ہوا تھا لیکن سرکاری اہلکاروں نے امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری سے گلو خلاصی کی غرض سے معمول کے مطابق اس حادثے کو بھی خودکش حملے کا نام دیا۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کے اندر موجود تمام افراد موقع پر ہی شہید ہوئے جبکہ اردگرد موجود 22 افراد بھی دھماکے کی زد میں آکر زخمی ہوئے جن میں سے 3 افراد بعد میں شہید ہوگئے جبکہ کئی اور افراد کی حالت بھی نازک بتائی گئی ہے اور مزید شہادتوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ شہید اور زخمی ہونے والے افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور دیگر مقامی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔دھماکے کے نتیجے میں قریب کھڑی گاڑیوں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔تیراہ بازار کوہاٹ شہر کا مصروف بازار ہے جس میں اکثر دکانوں اور مکانوں کا تعلق بھی اہل تشیع سے ہے اور اورکزئی ایجنسی کے شیعہ افراد روزمرہ کی خریداری کے لئے اسی بازار میں آتے ہیں اور اسی بازار میں واقع "کلایہ اڈہ" سے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے لندن سے جاری ہونے والے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ تیراہ بازار میں بم دھماکہ دہشت گردوں کی کھلی درندگی اور بربریت ہے۔ الطاف حسین نے بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے دہشت گردوں کی بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ بازاروں، مساجد ، امام بارگاہوں، درگاہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے دہشت گرد درندگی اور بربریت کا کھلا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تیراہ بازار میں بم دھماکہ کرنے والے دہشت گرد محرم الحرام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں اور مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین نے صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اس بم دھماکے کا سختی سے نوٹس لیاجائے اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ دیا جائے۔ انھوں نے بم دھماکے میں متعدد افراد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا۔دریں اثناء ڈی سی کوہاٹ نے دعوی کیا ہے کہ تیراہ بازار دھماکا "خود کش" حملہ تھا۔ شاہد اللہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تیراہ بازار میں ہونے والا دھماکا خود کش حملہ تھا اور دھماکے میں10کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ہونے والے تمام دھماکے خودکش نہیں ہوتے بلکہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے فرائض منصبی کو درست طور پر نہ نبھانے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کو چھپانے کے لئے دعوی کیا جاتا ہے کہ "دھماکہ خودکش" تھا اور چونکہ سرکاری اداروں نے پہلے سے فرض کرلیا ہے بالفاظ دیگر سرکار پاکستان نے ایک غیر تحریری قانون بنا رکھا ہے کہ "اگر حملہ خودکش ہو تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے اور یہ کہ پولیس اور دیگر ادارے خودکش حملوں کا سد باب کرنے سے قاصر ہیں چنانچہ وہ کسی بھی قسم کی بازپرس سے آزاد ہیں لہذا جب کوئی دھماکہ ہوتا ہے تو سرکاری حکام دھماکے کی آواز سن کر یا دھماکے کی خبر اصول کرتے ہی اعلان کردیتے ہیں کہ "دھماکہ خودکش تھا؛ خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے یا ٹانگیں مل گئی ہیں جو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد بھیج دی گئی ہیں" لیکن آج تک نہ تو کسی نے کہا اور نہ ہی کسی نے پوچھا کہ اتنے سارے سر اور اتنی ساری ٹانگیں جو اسلام آباد بھجوادی گئی ہیں، اس وقت کہاں ہیں؟ کیا ان پر ڈی این اے ٹیسٹ ہوا ہے؟ اگر ہوا ہے تو ٹیسٹ رزلٹ کہاں ہے؟ کیا ٹیسٹ رزلٹ کے نتیجے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے؟ اصولی طور پر بے گناہ اور محب وطن شیعہ پاکستانیوں کے قتل کو کیا دہشت گردی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے؟ کیا یہ بھی نانوشتہ قانون نہیں ہے کہ شیعہ مرے تو قاتل کا پیچھا نہ کیا جائے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110