6 دسمبر 2010 - 20:30

سعودی وزیر داخلہ کو اگر دہشت گردوں کے ٹولوں کی تعداد تک معلوم ہے اور ان کے زیر استعمال ہتهیار اور پرفیومز تک بهی معلوم ہیں تو انہیں یہ بهی بتانا پڑے گا کہ سیکورٹی کے حوالے سے اتنے سختگیر ملک میں یہ لوگ آزادی سے کام کیونکر کررہے ہیں؟

ابنا: سعودی وزیر داخلہ نے دعوی کیا ہے کہ شدت پسند القاعدہ تنظیم نے مہلک پرفیوم ایجاد کرلیا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے سعودی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ القاعدہ نے ایک نئی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے پرفیوم اور عطر کی بوتلوں میں زہریلا مادہ ملا کر انہیں اہم سیاسی، عسکری قائدین اور اہم صحافیوں کے گھروں اور ان کے دفاتر میں بھیجنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

القاعدہ کی اس نئی سازش کا پتہ ایک ایسے وقت میں چلا ہے جب حال ہی میں سعودی وزارت داخلہ نے ملک میں القاعدہ کے19 خفیہ سیلوں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق بڑے شہروں اور ملک کے طول و عرض میں انیس کے قریب دہشت گردوں کے خفیہ گروہ کام کررہے ہیں، جنہیں بیرون اور اندرون ملک القاعدہ کی بھرپور معاونت حاصل ہے۔

یہ خفیہ گروہ سعودی عرب کی اہم شخصیات کوہلاک کرنے کی منصبوبہ بندی سمیت کئی اہم تنصیبات کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ 

بشکریہ از روزنامہ جنگ .......اپنے ہاتھون پروردہ ٹولے کے بارے میں ایسے انکشافات کوئی نئی بات نہیں ہے اور پھر امریکہ اور یورپ کو ایک طاقتور ہیولے کی ضرورت ہے جس کے پاس پرفیومز تک بھی نہایت  مہلک ہوں تا کہ ان کا نام لے کر وہ اپنے عوام کو عالم اسلام سے خوفزدہ کرسکیں اور اسلامی دنیا میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے زیادہ آزادی کے ساتھ عمل کرسکیں۔ سعودی وزیر داخلہ کو اگر دہشت گردوں کے ٹولوں کی تعداد تک معلوم ہے اور ان کے زیر استعمال ہتهیار اور پرفیومز تک بهی معلوم ہیں تو انہیں یہ بهی بتانا پڑے گا کہ سیکورٹی کے حوالے سے اتنے سختگیر ملک میں یہ لوگ آزادی سے کام کیونکر کررہے ہیں؟ کیا وکی لیکس کی بات درست ہے کہ القاعدہ کو سب سے زیادہ مالی معاونت سعودی عرب سے ملتی ہے؟ اور یہ کہ کیا حالیہ انکشافات کے مطابق القاعدہ کے عراقی سرغنے  ان کی اور ترکی الفیصل کی مرضی سے نہیں چنے جاتے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110