ابنا: کراچی میں سی آئی ڈی (کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ) پولیس نے ایک خفیہ کاروائی میں کامیاب کاروائی کرکے کالعدم دہشت گرد ٹولے تحریک طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اس بات کا اعلان کراچی سی آئی ڈی پولیس کے افسران فیاض خان اور عمر شاہد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سی آئی ڈی افسران نے ذرائع کو بتایا ہے کہ سی آئی ڈی پولیس نے کراچی کے روپوش علاقے سہراب گوٹھ میں ایک کامیاب آپریشن کے نتیجہ میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے چار خطرناک دہشت گردو ں کو گرفتار کر لیا ہے،جن میں ایک کالعدم تنظیم کا سربراہ بھی شامل ہے جو کہ کراچی میں لوکل سطح پر کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کا سربراہ ہے۔
سی آئی ڈی افسران نے میڈیا کو بتایا کہ چار خطرناک گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میں امان الدین منو، احسان اللہ، برکت اللہ اور عمر سہراب شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ چاروں خطرناک دہشت گرد کراچی میں نہ صرف سرکاری عمارتوں پر حملوں میں ملوث ہیں بلکہ مذہبی مقامات خصوصاً مزارات پر ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث ہیں جبکہ محرم الحرام میں یہ دہشت گرد جلوس ہائے عزاء کو اپنے ناپاک عزائم کا نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران پولیس نے خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی کئی جیکٹس اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا ہے اور شبہ ہے کہ ان جیکٹس اور مواد کو محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے پروگراموں میں استعمال کیا جانا تھا۔
ان کاکہنا تھا کہ چاروں دہشت گرد کالعدم دہشت گرد ٹولے تحریک طالبان کے مرکزی سرغنے حکیم اللہ محسود کے ساتھی ہیں اور اسی کے حکم پر کراچی میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے آئے تھے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس اور حساس ادارے محرم الحرام میں حفاظتی انتظامات کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں تاہم ان چار اہم دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد شاید خطرات کچھ کم ہوئے ہیں تاہم ڑیڈ زون میں حفاظتی اقدامات مزید بہتر کئے جا رہے ہیں تا کہ محرم الحرام میں کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حال ہی میں معروف شیعہ راہنما اور پاسبان عزا کے بانی رکن سید نیئر زیدی کراچی اپنے گھر آتے ہوئے ناصبی دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق انہیں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے روزانہ کام سے فارغ ہوکر گھر واپس آرہے تھے۔
دہشت گردوں کے حملے میں شہید کی سر میں تین گولیان لگیں اور ان کے جسد خاکی کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے انہیں محمود آباد میں واقع امام بارگاہ ارم میں لایا گیا اور شہید کی میت کو غسل و کفن دینے کے بعد ان کی نمازہ جنازہ ادا کی گئی۔
واضح رہے کہ شہید کو ایک طویل عرصے سے دھمکیاں موصول ہوتی رہی تھیں، تاہم محرم الحرام کی آمد سے قبل ایک مرتبہ پھر یزیدی دہشتگردوں نے اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں تیزتر کردی ہیں جبکہ حکومت ایک طویل عرصے سے شیعیان پاکستان بالخصوص شیعیان کراچی کی ٹارگٹ کلنگ پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
اس سے قبل بھی 24 نومبر کو کراچی ہی میں ناصبی دہشت گردوں نے پاک حیدری اسکاؤٹس کے رضاکار موسیٰ ولد سعید محمد کو نارتھ ناظم آباد میں گھر کے پاس فائرنگ کر کے شہید کردیا تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہید موسیٰ کو ناصبی دہشت گردوں نے گھر سے جاتے ہوئے گھات لگا کر فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔
..........
/110