پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ شب پولیس کے خصوصی شعبے سی آئی ڈی کی ایک عمارت پر طاقت ور بم حملے کی تحقیقات کا آغاز ہو گیا ہے جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹا نے کا کام بھی جاری ہے۔ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین جمعہ کے روز کی جارہی ہے
جمعرات کی رات تقریباً 8:15 بجے پی آئی ڈی سی کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 28 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے حملہ آوروں نے عمارت میں تعینات محافظوں پر فائرنگ کی جس کے بعد بارود سے لدی ایک گاڑی سی آئی ڈی آفس کے اندر پہنچائی گئی اور اسے عمارت سے ٹکرایا گیا۔
سی آئی ڈی آفس دھماکے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 1.3 رکارڈ کی گئی ہے ۔چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کے مطابق کراچی سی آئی ڈی آفس دھماکے کی شدت 8 بج کر20 منٹ پر ریکارڈ کی گئی، اور یہ شدت1.3 تھی.
چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا تھا کہ دھماکے سے ایک لہر پیدا ہوتی ہے اور اس لہر کی شدت زلزلے کی طرح رکارڈ ہوجاتی ہے، سی آئی ڈی کراچی دھماکے سے شہر کا برا حصہ لرز اٹھا تھا ۔
جمعہ کے روز جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کراچی کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا دہشت گرد حملہ تھا۔
انھوں نے اس واقعے کے پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ سی آئی ڈی کی عمارت کے علاوہ اس میں ملحقہ پولیس کی رہائشی کالونی میں مکانات اور دیگر عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور اِن میں موجوددرجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے درجنوں افراد اب بھی زیر علاج ہیں اور اِن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
سی آئی ڈی نے حالیہ دنوں میں کراچی سے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے چھ مشتبہ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی سی آئی ڈی آفس پر بم دھماکے میں لشکر جھنگوی ملوث ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کل تک کرپٹ افسران کی گرفتاریاں شروع ہوجائیں گی۔
آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک کہتے ہیں کہ دھماکے کے وقت سی آئی ڈی سینٹر کی عمارت میں لشکر جھنگوی کے زیر حراست دہشت گرد موجود نہیں تھے ۔
دھماکے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آئی جی سندھ سید صلاح الدین بابر خٹک نے کہا کہ دہشتگردوں نے پہلے فائرنگ کرتے ہوئے بارود سے بھرا ٹرک عمارت سے ٹکرایا۔ جس سے پوری عمارت زمین بوس ہو گئی۔
انکا کہنا تھا کہ واقعے کی تمام پہلووں سے تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زور دار دھماکے کے نتیجے میں کئی کلو میٹر میں واقع عمارتیں لرزاٹھیں اور ان کے دروازوں اورکھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ 28 ہلاکتوں کے علاوہ ڈیڑھ سو سے زیادہ زخمی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے تصدیق کی ہے کہ سی آئی ڈی آفس کے اندر دھماکہ خیز موادسے بھرا ٹرک اڑا یا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی، کالعدم تحریک طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگلا دھماکہ پریزیڈنٹ ہاﺅس میں کریں گے۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ سے تین مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں آئے جس سے اتر کر انہوں نے فائرنگ کی جس کے بعد دھماکہ ہوگیا۔ پولیس نے جائے وقوع سے تین مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے جن کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد زمین میں دس سے پندرہ فٹ گہرا گھڑا پڑھ گیا۔ سی آئی ڈی سینٹر کی عمارت کے اوپر کالادھواں چھاگیا۔
دھماکے کی شدت کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاوس کے باہررکھے ہوئے گملے ٹوٹ گئے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین روڈ کو بند کر دیا گیا ہے اور عام افراد کو وہاں جانے سے روک دیا گیا ہے اور سیکیورٹی اہلکاروں سے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
سی آئی ڈی کی کئی منزلہ بلڈنگ اور دیگر متصلہ عمارات کو شدید نقصان پہنچا۔
..............
/110