10 نومبر 2010 - 20:30

کراچی میں مشہور نوحہ خوان مرحوم سید رضی رضوی کے اکلوتے بیٹے کو شہید کیا گیا جبکہ کوئٹہ میں دہشت گردوں نے برکت میڈیکل اسٹور کے مالک حاجی ادریس کو اغوا اور ان کے محافظ محمد علی کو شہید کردیا ہے۔

کراچی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دہشت گرد ناصبی ٹولے کے دہشت گردوں نے نارتھ کراچی کے سیکٹر 11A میں فائرنگ کرکے مشہور نوحہ خوان سید رضی رضوی مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو شہید کردیا ہے۔ یہ واقعہ آج 3 بجے سہ پہر رونما ہوا۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ماہ میں ملت جعفریہ کے درجنوں بے گناہ نوجوان کالعدم دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ اور لشکت جھنگوی کے یزیدی دہشت گردوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

 اور ثابت ہوا کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ـ رحمن ملک کے بقول "خفیہ کاروائی" ـ جھوٹ ہے اور یہ سلسلہ کراچی میں بھی کوئٹہ اور بعض دیگر شہروں میں خاص طور پر محب وطن شیعہ پاکستانیوں کے خلاف بدستور جاری ہے۔ مقامی اخبارات کے مطابق کوئٹہ میں طوغی روڈ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک شیعہ باشندہ شہید ہوگیا ہے۔کوئٹہ کے علاقے طوغی روڈ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک شیعہ باشندہ محمد علی شہید اور راہگیر زخمی ہوگیا۔ اطلاع کے مطابق کوئٹہ میں جمعرات کی صبح 8 بجے ناصبی دہشت گردوں نے برکت میڈیکل اسٹور کے مالک حاجی ادریس کو طوغی روڈ سے اغواء جبکہ مزاحمت کرنے پر ان کے محافظ محمد علی کو شہید کردیا۔

پولیس کے مطابق مری آباد کا رہائشی محمد علی اپنے گھر سے کام کیلئے نکلا جونہی وہ طوغی روڈ ڈیلائٹ سینما کے قریب پہنچا تو پہلے سے گھات لگائے ہوئے ایک دہشت گرد نے اس پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر بھی زخمی ہوا۔زخمیوں کو سول ہستال پہنچایا جارہا تھا کہ محمد علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔دریں اثناء ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی نے فرقہ وارانہ واقعات کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے زیر اہتمام اتوار کو کوئٹہ شہر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی، لاقانونیت، بدامنی اور اغواء برائے تاوان کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔ اس مظاہرے میں بڑي تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے تھے جس پر حکومت اور دہشت گردوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نےصو بائی حکومت اور کوئٹہ کی انتظامیہ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی ۔اس موقع پر حکومت کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔  مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے مرکزی رہنماء عزیزاللہ ہزارہ نے الزام لگایا کہ حکومت کوئٹہ میں دہشت گردوں میں کی سرپرستی کررہی ہے جس کے باعث آئے روز کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اوراغواء برائے تاوان نے واقعات ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم کو اب حکومت اور انتظامیہ سے امن وامان برقرار رکھنے کی کوئی توقع نہیں رہی کیونکہ دہشت گردوں کو حکومت میں شامل بعض بااثر افراد کی سرپرستی حاصل ہے۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے ضلعی سیکرٹری سردار ساحل ہزارہ نے کہا دہشت گردوں کو آج تک کسی عدالت سے سزا نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے فرقہ وارارنہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔مقررین نے بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ کوئٹہ شہر میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو بھی ایسے لوگوں کی فوری نشاندہی کرنی چاہے جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں جاکر رپوش ہوجاتے ہیں ۔اٹھائیس اکتوبر کو کوئٹہ شہرمیں بعض نامعلوم دہشت گردوں نے نے شیعہ تاجر حاجی علی اکبر سمیت چار افراد کو گولی مارکر شہید کردیا تھا جس کے بعد دہشت گرد ٹولے "لشکر جھنگوی" نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔یادرہے کہ گذشتہ 5 برسوں کے دوران بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے نتیجے میں اب تک پانچ سو سے زیادہ شیعہ باشندے شہید کئے جاچکے ہیں۔ ان واقعات میں سے اکثریت کی ذمہ داری کالعدم دہشت گرد ٹولے لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

/110