5 نومبر 2010 - 20:30

یہاں عزاخانہ زہرا حیدر آباد بھارت کی مختصرسے تاریخ و تصویری رپورٹ پیش خدمت ہے۔

عزاخانۂ زہرا کے بانی نظام ہفتم حیدرآباد، میرعثمان علی خان تھے۔ انہون نے یہ امامبارگاہ اپنی والدہ کی یاد میں بنوائی جن کا نام "زہرا" تھا۔ یہ عاشورخانہ یا امامبارگاہ نواسۂ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد منانے اور ان کی عزداری کے لئے بنایا گیا ہے جنہیں سنہ 61 ہجری میں دوسرے اموی بادشاہ یزید بن معاویہ نے میدان کربلا میں شہید کردیا تھا۔ اس امامبارگاہ کی عمارت کی تعمیر 1941 سی 1958 تک کے عرصے میں مکمل ہوگئی ہے۔ حال ہی میں ایک مخیر خاتون نے اپنے ذاتی سرمائے سے اس عمارت کی تعمیر نو کروائی ہے اور تعمیر نو کا کام 50 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل ہوگیا ہے۔ یہ عمارت ایک تاریخی خزانہ ہے اور اس میں قدیم عربی اور فارسی خطاطی میں متعدد فریم شدہ متون موجود ہیں جس پر پورا قرآن ریشم کے اوپر ہاتھ سے تحریر کیا گیا ہے جو ایک علم کے نقشے کے اوپر موجود ہے۔ یہ منئیچر تحریر (Miniature Writing) تقریباً 15 مربع فٹ مربع احاطے پر پہیلی ہوئی ہے۔ اس میں چار نایاب فانوس یا چل چراغ بھی ہیں جن کی قیمت کئی کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ مرکزی چل چراغ بہت ہی بڑا اور عظیم ہے۔ علم سونے کا بنا ہوا ہے اور اس پر کثیر تعداد میں قیمتی پتھروں کا کام ہوا ہے جن میں سے بہت سے تو صرف محرم میں نمائش کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ اس عزاخانے میں صوتی نظام کا بہترین بندوبست ہے جہاں ہال کے کسے بھی گوشے میں ہونے والی بات چیت پوری عمارت میں سنی جاسکتی ہے جبکہ ہال کا رقبہ 200X400  فٹ ہے۔ نچلی منزل مردوں کے اجتماع کے لئے ہے جبکہ درمیانی منزل خواتین کے لئے ہے۔ چونکہ اسلام میں انسانی اور حیوانی اشکال بنانے کی اجازت نہیں ہے اسی لئے اس عمارت کی دیواروں اور چہت پر ہندسے (geometric) اور گل کاری کا وسیع کام نظر آتا ہے۔ چھت (سیلنگ) قرآن کریم کے مختلف اقتباسات و آیات سے مزین ہے جن میں رنگوں کا نہایت متوازن امتزاج بصارت نوازی کرتا ہے۔اس عمارت کو 1999 میں ہیریٹج ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس عمارت کو آج تک بہت اچھے انداز میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

........

/110

عزاخانۂ زہرا

بانی: میر عثمان علی خان

مرکزی مدخل سے ہال کا منظر

 

مرکزی چل چراغ

ہال میں داخلے کا راستہ چھوٹے چل چراغ کے ساتھ

چودہ معصومین علیہم السلام کے اسماء گرامی جہاں سے

مرکزی چل چراغ لٹک رہا ہے

مرکزی چل چراغ کی تابناکیاں

چھوٹا چل چراغ بالکل نچلے زاویۓ سے

درمیانی منزل اور سیاہ رنگ میں قرآنی آیات

سیلنگ اور درمیانی منزل کی ڈیزائن میں گلکاری اور جیومیٹریکل نمونے

درمیانی منزل کو سہارا دینے والا ستون

سنہری علم اور اس میں جڑے ہوئے قیمتی پتھر

مینارے کی متن میں ہاتھ کا تحریر شدہ مکمل قرآن

وہی منظر لیکن قریب تر

More closer notice the numerical in red (it is smaller)

عمارت کی بیرونی منظر کی دست ساختہ تصویر

جو خطاطی شدہ ڈیزائن میں قرار دی گئی ہے

ادارہ شہری ترقی حیدر آباد (HUDA) / فن و ہنر اور ثقافتی ورثے کے بھارتی قومی ٹرسٹ (INTACH ) کی طرف سے ورثہ ایوارڈ (Heritage award)