صدر احمدی نژاد نے امریکہ کے سابق صدر بش کی جانب سے عراق اور افغانستان کے بعد ایران پر حملے کے منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ عراق اور افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد ایران پر بھی اپنا تسلط قائم کرےگا لیکن ایرانی عوام کے پختہ عزم و ارادے اور استقامت کو دیکھتے ہوئے دشمن اپنے منحوس منصوبوں میں ناکام ہوگیا۔ صدر احمدی نژاد نے گروپ 1+ 5 کی جانب سے مذاکرات کے لئے حالیہ درخواست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران با مقصد اور با معنی مذاکرات کا ہمیشہ سے حامی رہا ہے لیکن اگر مذاکرات امریکہ کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوں تو اس سے صرف وقت ضائع ہوتا ہے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ہم مذاکرات امریکی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق چاہتے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ایران کے خلاف قراردادیں منظور کرکے ان کا تصور یہ تھا کہ شاید ایران کو قراردادوں کے ذریعے قومی حقوق سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جاسکے گا لیکن وہ اس مقصد میں ناکام ہوگئے ہیں اور ایران، اقتصادی پابندیوں اور قراردادوں کے باوجود ترقی اور پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن ہے اورحکومت ایرانی قوم کے دفاعی حقوق سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹےگا۔
.........
/110