30 اکتوبر 2010 - 20:30

ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے اس دعوے کے باوجود کہ اس امر پر عالمی اتفاق رائے پایا جاتا ہے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ایران مخالف امریکی پالیسیوں ميں شدت کے کی وجہ سے یورپی یونین میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے پرسوں کے اداریئے میں " ایران کو پٹرولیم کی مصنوعات کی برامدات کے مسئلہ پر یورپ اور امریکہ میں اختلاف ہے" کے عنوان سے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کے حالیہ برسلز اجلاس میں امریکہ میں منظور شدہ قوانین کے برعکس، یورپی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تیل و گیس کی درامدات و برامدات سے منع نہيں کیا گیا ہے۔  اخبار نےلکھا ہے کہ یورپی یونین اسی طرح ایران سے تیل وگیس کی درامدات کے لئے ضرورت کے مطابق زرمبادلہ کے ٹرانسفر کے معاملات میں بھی آزاد ہے۔ واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے: ایک ایسے وقت جب یورپی پارلیمان یورپی کمپنیوں پر امریکہ کے دباؤ پر معترض ہے یورپی یونین میں اس طرح کا نیا فیصلہ امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلوں کومزید بڑھا سکتا ہے۔ امریکی حکام اپنے اس زعم باطل میں کہ وہ پابندیاں عائد کرکے ایران کے عوام کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کردیں گے یا ملت ایران کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرسکیں گے ایران پرمزید پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہيں۔ امریکی حکام نے غالبا گذشتہ 31 برسوں کے دوران اپنک ناکامیوں سے سبق نہيں سیکھا ہے یا شاید وہ اپنے عوام کے سامنے اپنی ناکام پالیسیوں کو کامیاب ظاہر کرنے کے لئے ایران کے مقابلے میں اپنی شکست سے سبق لینا ہی نہيں چاہتے۔ امریکی حکام سمیت دنیا کے سب ہی ملکوں کے عوام اور حکام کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کی غیرقانونی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں سے نہ صرف ایران کے عوام کو جھکایا نہيں جاسکا ہے بلکہ ایران کے عوام نے ان پابندیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لئے ایسے مواقع فراہم کئے ہیں کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران تمام اقتصادی تجارتی اور سائنسی میدانوں میں اپنے پیروں پر یا تو کھڑا ہوچکا ہے یا پھر کھڑا ہوا چاہتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے دنیا میں پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی توانائی اور صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے؛ اور آج ایران سائنسی شعبے میں خاص طورپرميڈیکل کے شعبے میں اس مقام پرکھڑا ہے جہاں صرف چند ہی ممالک پہنچ سکے ہيں۔ نیز ایران نے خلا میں "امید" جیسا سیٹلائٹ بھی کامیابی کے ساتھ روانہ کیا جبکہ خلائی شعبے میں گذشتہ برسوں کے دوران بارہا اور بارہا کامیابیاں حاصل کی ہيں اور آج بھی مختلف میدانوں میں ایران کے عوام ترقی وپیشرفت کا اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہيں۔ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں آج ایران نے یورینیم افزودہ کرنے کی اتنی توانائی حاصل کرلی ہے جتنی اسے ایٹمی بجلی گھر میں ایندھن تیارکرنے کے لئے ضروری ہے اور یہ سب اس نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں انجام دیا ہے ۔ امر مسلم یہ ہے کہ امریکہ کے دعوے نہ صرف ایٹمی توانائی کے میدان میں بلکہ تمام معاملات ۔ منجملہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے امور ۔ میں بھی جھوٹے ثابت ہوئے ہيں چنانچہ آئندہ پانچ نومبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پہلی بار انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں امریکی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔ آج متعدد رپورٹوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی میں امریکہ بہت سے ملکوں سے آگے نکل چکا ہے اور بعض ذرائع تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بگرام، ابوغریب اور گوانتامو جیسے عقوبت خانوں میں امریکہ نے جو درندگی، سفاکی اور انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزی کی ہے وہ اس کے سیاہ کارناموں میں تو سرفہرست ہے ہی خود امریکہ کے اندر بھی جس طرح سے وہ سیاہ فاموں و اور ديگر اقلیتوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کررہا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ دراصل انسانی حقوق آزادی اور جمہوریت کا جھوٹا دعوی کرنے والا امریکہ ہی آج پوری دنیا میں دہشت گردی، بدامنی اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ عراق وافغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کا قتل عام اور غزہ میں اسرائیل کے انسانیت سوزمظالم پر اس کی خاموشی نیز غاصب صہیونی ریاست کو ایٹمی ہتھیاروں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔امریکہ نے گذشتہ برسوں کے دوران ایران پر پابندیاں عائد کرنے، نرم جنگ (Soft War) کے میدان میں انسانی حقوق کے بہانے دباؤ بڑھانے اور خاص طور پر گذشتہ برس ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد کے مسائل کو ہوا دینے جیسے مختلف ہتھکنڈوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے معاملات میں براہ راست مداخلت کی اور یوں ایرانی عوام کے مد مقابل آگیا جبکہ گذشتہ 31 برسوں میں ایران کے عوام نے تمام میدانوں میں ۔ خواہ وہ اقتصادی پابندیوں کا میدان ہو یا سیاسی میدان ہو یا پھر صدام جیسے معدوم ڈکٹیٹر کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کرانے کا محاذ ہو ۔ ہرمحاذ پر اسے بری طرح سے شکست دی ہے اور اگر امریکی حکام نے اپنی غلط پالیسیوں کی اصلاح نہ کی تو انہیں بہرحال اس بات کوسمجھنا ہوگا کہ جب جب بھی وہ ایرانی عوام کے مدمقابل آئيں گے شکست ان کا مقدر بنے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110