28 اکتوبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کونسل کے آئندہ اجلاس میں امریکہ میں انسانی حقوق کے بارے میں ایران کا موقف پیش کرنے کی اعلان کیا ہے۔

رامین مہمان پرست نے آئی آر آئی بی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھی مغرب اور امریکہ میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں تشویش رکھنے والے دوسرے ملکوں کی مانند اس اجلاس میں اپنا موقف پیش کرے گا۔واضح رہے کہ 5 نومبر کو ملکوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کاجائزہ لینے کے لئے منعقد ہونے  والے نویں اجلاس میں امریکہ میں انسانی حقوق کی صورت حال کاجائزہ لیاجائے گا۔رامین مہمان پرست نے کہا کہ امریکہ اور مغربی حکومتیں انسانی حقوق کے سلسلے میں آگے کی جانب فرارکی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ دوسروں پرالزام لگاتی ہیں تاکہ اپنے ملکوں میں انسانی حقوق کی پامالی اورانسانوں کے خلاف غیرقانونی رویوں پرپردہ ڈال سکیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ میں انسانی حقوق کی پامالی اورانسانوں کی بے حرمتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شہریوں کے ساتھ امریکی پولیس کے برے سلوک، اس ملک میں قیدیوں کی خراب صورت حال، قیدیوں کو ان کے رشتے داروں اور اہل خاندان سے ملنے کی اجازت نہ دینے جیسے امور کو امریکہ میں انسانی حقوق کی پامالی قراردیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ غاصب صہیونی ریاست کی حمایت، ابوغریب اور گوانتانامو جیلوں کے قیام، دوسرے ملکوں پر لشکرکشی اور آزادی بیان کے نام پرادیان کی بے حرمتی کرنے کے باعث انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا سب سے بڑا ملک شمار ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم کو نذر آتش کرنا بھی انسانی حقوق اورتمام ادیان الہی اور ان کے پیروکاروں کی بے حرمتی کی ایک مثال تھی جواس ملک کے حکام کی حمایت اور خاموشی کے نتیجے میں انجام پائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110