افغانستان کی تعمیرنوکیلئے خصوصی آئی جی آرنلڈ فیلڈز کے مطابق سترہ ہزار سات بلین ڈالرکی رقم سات ہزارکے قریب ٹھیکیداروں میں تقسیم کی گئی تھی لیکن پینٹاگان ،امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی ایجنسی برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ یہ رقم کہاں اورکس مد میں خرچ کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ میں مالی سال دوہزارسات اوردوہزارنو کے درمیان دی گئی رقم کا جائزہ لیا گیاہے۔رپورٹ کے مطابق رقوم خرچ کیے جانے کاجوڈیٹا فراہم کیا گیا ہے وہ انتہائی خراب اورناقص ہے اورافغانستان کی تعمیرنو کے حوالے سے جاری کی گئی رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے اسے مانیٹرکرنے کے لیے امریکی حکومت کے پاس تاحال کوئی مرکزی ڈیٹا بیس نہیں ہے اورنہ ہی ٹھیکیداروں اوران کے کام کی تفصیلات موجود ہیں۔
..........
/110