25 اکتوبر 2010 - 20:30

پاک پتن پولیس نے حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر دھماکے کے الزام میں دو نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ملزمان کے خاکے بھی جاری کردیے گئے۔

تھانہ سٹی پولیس نے مقدمہ قتل، اقدام قتل، اِنسدادِ دہشت گردی اور ایکسپلوزیو ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیا ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث دو دہشت گردوں کے خاکے عینی شاہدین محمد منیر اور غفور کی مدد سے تیار کیے ہیں۔ حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے مزار کے باہر پیر کی صبح ہونے والے دھماکے میں چھ افراد جاں بحق اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے۔ آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کے لئے ڈی پی او پاک پتن کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے۔ بہت جلد دہشت گردوں تک پہنچ جائیں گے۔ بابا فرید گنج شکر مزار کے سجادہ نشین کے بھائی دیوان عظمت چشتی نے واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولیس درگاہ کا فول پروف انتظام کرتی تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ دھماکے کی انکوائری ہائی کورٹ کے جج سے کروائی جائے۔  پاک پتن شہر کی فضا سوگوار  پاک پتن میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکرکے مزار پر گزشتہ روزدھماکے کے بعد آج سوگ منایا جارہا ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دھماکا ناقص سیکیورٹی کی وجہ سے ہوا، جب کہ شہر میں ماحول سوگوار ہے۔ بابا فرید الدین گنج شکر کی درگاہ زائرین اور عقیدت مندوں کے لئے گزشتہ روز سے بند ہے۔ پنجاب کے وزیر اوقاف احسان الدین قریشی کا کہنا ہے کہ درگاہ کھولنے میں کچھ وقت لگے گا۔ آج بعد نماز ظہر درگاہ کی مسجد میں سلسلہ چشتیہ کے سجادہ نشینان اور علما مشائخ کانفرنس بھی ہوگی۔ دوسری جانب پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ درگاہ کے اندر لگے دس کلوز سرکٹ کیمروں میں سے صرف دو کیمرے کام کر رہے تھے۔ درگاہ کے اندر اور باہر کیمرے لگانا اور ان کی دیکھ بھال محکمہ اوقاف کی ذمے داری ہے ۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دو ماہ پہلے پولیس اور اسپیشل برانچ نے محکمہ اوقاف کو ایک مراسلہ بھیجا تھا کہ درگاہ کے عقبی دروازے اور اس سے ملحقہ چھوٹی دیوار سے دہشت گردی کی واردات ہو سکتی ہے۔  واضح رہے کہ کل درگاہ بابا فرید کے باہر بم دھماکا ہوا جس میں 4 افراد شہید اور 14 زخمی ہوئے جبکہ دو زخمی بھی زخموں کا تاب نہ لہ کر چل بسے۔بم دھماکے کیخلاف مختلف مذہبی تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے اور دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث عناصر کو فی الفور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ پیر کی صبح بابا فرید کے مزار پر لوگ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مشرقی دروازے سے واپس اپنے گھروں کو جارہے تھے کہ مزار کے باہر کھڑی موٹرسائیکل میں نصب بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 14زخمی ہوگئے جن میں اکثریت نمازیوں کی ہے۔بم دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ درگاہ کے صحن اور فرش میں دراڑیں پڑگئیں اور مسجد کو بھی نقصان پہنچا جبکہ متعدد دکانیں بھی تباہ ہوگئیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا اور اس میں 10سے 11کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار مزار کے مشرقی گیٹ پر پہنچے اور موٹر سائیکل پارک کرکے چلے گئے، موٹر سائیکل میں دودھ کی بالٹیاں لٹکی ہوئیں تھی اور چند منٹ بعد زور دار دھماکہ ہوا، دھماکے کے بعد ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔عینی شاہدین کے مطابق ملزموں کی عمریں 20 اور 30 سال کے درمیان تھیں جو فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔دریں اثناء سنی اتحاد کونسل نے سانحہ پاک پتن پر ملک گیر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مزارات پر وارڈنز تعینات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بچاؤ مارچ 27 نومبر کو بری امام کے مزار سے داتا دربار لاہور تک منعقد ہوگا۔اس موقع پر سنی تحریک کے قائد ثروت اعجاز قادری، حاجی حنیف طیب اور دیگر رہنما موجود تھے جبکہ مذہبی رہنماؤں نے بابا فرید کے مزار پر بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملک میں دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام اور مزارت اور دیگر مذہبی اجتماعات کے تحفظ کیلئے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ٹنڈوآدم سے نامہ نگار کے مطابق یہاں مختلف سنی تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی مکی مسجد غوثیہ سے نکالی گئی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں ریلی کے قائدین اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

.......

/110