صدر جناب احمدی نژاد نے آج ایران کے شمال مغربی شہر اردبیل میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ پانچ جمع ایک گروپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ آئي اے ای اے کے قوانین کا پابند ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنےوالوں کو منطق اور قانون کا پابند ہونا چاہیے اور صہیونی ریاست کے ایٹمی ہتھیاروں کےبارےمیں واضح موقف رکھنا چاہیے۔انھوں نے مغربی ملکوں کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ شاید آپ مذاکرات کے لئے ایران کی شرایط پرخاموش ہوجائيں لیکن اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ آئي اے ای اے کے قوانین کے پابند نہیں ہیں، صہیونی ریاست کے ایٹم بموں کی حمایت کرتےہیں اور مذاکرات میں منطق کی پابندی نہیں کرتے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ایران ان لوگوں کےساتھ جو دشمنی کے موقف کی اساس پرمذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور قانون و منطق کے پابند نہيں ہیں مذاکرات کی الگ روش اپناتا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ملت ایران اپنے حقوق سے ذرہ برابر پسپائي اختیار نہیں کرے گي اور مذاکرات عدل وانصاف اور برابری کی اساس پرہونے چاہیں۔
۔۔۔۔۔۔
/110