16 اکتوبر 2010 - 20:30

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے مغوی وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کی عدم بازیابی کے خلاف کل خیبرپختونخوا کی سرکاری یونیورسٹیوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

ہڑتال کا فیصلہ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیزاکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے کیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹر اجمل کے اغوا کو 40 گذرنے کے باوجود بازیاب نہیں کروایا جاسکا جس سے یونیورسٹی اساتذہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے خلاف پیر کو صوبہ بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں ہڑتال کی جائے گی ۔ فپواسا خیبرپختونخواکے صدر پروفیسرڈاکٹرمحمد فدا نے جیو نیوزکو بتایا کہ ہڑتال کے دوران یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کا بائیکاٹ کیا جائیگا اورتمام ایسوسی ایشنزکی مشترکہ جنرل باڈی اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا اور اس کے بعد احتجاجی ریلی نکالی جائیگی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلراور اے این پی کے صدراسفندیارولی خان اور وزیراعلی امیرحیدرخان ہوتی کے قریبی رشتہ دار ڈاکٹرمحمد اجمل کو پشاور سے 7ستمبرکو اغوا کیا گیاتھا۔ دوروزقبل ان کی ویڈیوجاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ وہ طالبان کے قبضے میں ہیں۔

......

واضح رہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کے کزن ڈاکٹر اجمل خان کو گذشتہ منگل کے روز قبل نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ انھیں اس وقت اغوا کرلیاگیا جب وہ پروفیسر کالونی میں واقع اپنے گھر سے باہر آرہے تھے۔ اغوا کی اس واردات کے بعد پولیس نے ایک مبینہ مشتبہ شخص کو کارخانو مارکیٹ سے گرفتار تھا جس سے تفتیش کا بھی تا حال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اجمل خان کو خیبر ایجنسی منتقل کردیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110