کراچی،فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد24ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ہفتے کی شام سے شروع ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 24ہوگئی ہے جبکہ50سے زائد افراد زخمی ہو ئے ہیں اور شہر میں 5گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ ہفتے کی شام سے شروع ہوا۔ پولیس کے مطابق آج صبح سائٹ کے علاقے فرنٹیئر کالونی میں بس پر فائرنگ کے نتیجے میں2 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جب کہ اورنگی ٹاؤن میں ہزارہ چوک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ اورنگی میں ہی کٹی پہاڑی کے علاقوں میں فائرنگ سے 3 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ لیاری کے علاقے کلاکوٹ سے دو افرادکی لاشیں اور کیماڑی میں کچرا کنڈی سے ایک بوری بند لاش ملی ہے۔ تمام افرادکو تشدد کرکے ہلاک کیا گیا۔ بلدیہ ٹاؤن کے علاقے میں فائرنگ کے واقعات میں 6 افراد ہلاک ہوئے،جبکہ گارڈن کے علاقے میں دھوبی گھاٹ کے قریب فائرنگ سے 3 افراد کو قتل کردیا گیا۔ ٹمبر مارکیٹ میں فائرنگ سے دو، گلشن اقبال کے علاقے میں مسکن چورنگی کے قریب، کھارادر اور حسین آباد میں ہونے والی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوئے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق عباسی شہید اسپتال میں 14زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جبکہ جناح اسپتال میں 18 اور سول اسپتال میں 20زخمی لائے گئے۔ فائر بریگیڈ حکام کے مطابق صدر،شارع فیصل ،نیو کراچی اور گلستان جوہر کے علاقوں میں نجی چینل کی اسٹاف وین سمیت 5 گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔ شہر میں کشیدگی برقرار ہے۔ادھر پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن کے علاقے سے 4مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے جبکہ شہر کی مرکزی شاہراہوں پر پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کراچی:اے این پی کے جاں بحق کارکنوں کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی گزشتہ شب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اے این پی کے تین ہمدردوں کی نماز جنازہ رشید آباد بلدیہ ٹاؤن میں ادا کر دی گئی۔ گزشتہ شب نامعلوم افراد نے رشید آباد پر چائے کے ہوٹل پر بیٹھے 5 افراد پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پانچوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے دو افراد کی میتیں صوبہ خیبر پختونخوا روانہ کر دی گئیں جبکہ 3 کی نماز جنازہ رشید آباد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کے موقع پر اے این ہی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل بشیر جان کے علاوہ اے این پی کے کارکنان اور ذمہ داران سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تینوں کارکنان کی تدفین علاقہ کے قبرستان میں کر دی گئی۔ جنازہ کے شرکا کا کہنا تھا کہ ایک خاص منصوبے کے تحت معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ جنازہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور کوئی نا خوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔ کراچی،ٹارگٹ کلنگ سے پختونوں کا قتل عام کیا جا رہاہے،شیر پاؤ پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے مرکزی چیئرمین آفتاب احمد خان نے شاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے پختونوں کا قتل عام کیا جارہاہے، جو پارٹیاں حکومت کی اتحادی ہیں وہ بھی ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کراچی میں امن اور قاتون کی عمل داری قائم کرے۔ آفتاب شیرپاؤ کاکہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کو بھی وفاق پر اعتما د نہیں رہا۔ اتحادی جماعتیں ایک دوسرے پر الزم تراشی کررہی ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ ان کاکہناتھا کہ خیبر پختون خوا میں وطن کارڈز سیاسی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے۔ نوشہرہ ا ور چارسدہ کے بیشتر متاثرین کو وطن کارڈ نہیں دئیے گئے۔ انہو ں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نہ پہلے ساتھی تھے اور نہ اب ان کے ساتھ کوئی راستے ملتے ہیں۔ اے این پی، پیپلز امن کمیٹی دہشت گردی میں ملوث ہیں، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور نام نہاد پیپلز امن کمیٹی کے دہشت گردوں نے کراچی میں موت کا خونی کھیل شروع کیا ہے تاکہ شہر میں خوف پھیلے اور ضمنی انتخاب کو سبو تاژ کیا جاسکے۔ایک بیان میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے کہا کہ گزشتہ روز اے این پی اور پیپلز امن کمیٹی نے اورنگی ٹاؤن میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ اوریوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ۔ اس اعلان کے بعد سے اے این پی اور نام نہاد پیپلز امن کمیٹی کے دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں موت کا خونی کھیل شروع کردیا ہے۔ سفاک اور مسلح دہشت گرد کل شام سے بسوں، گاڑیوں ، دکانوں اور بازاروں میں فائرنگ کر کے راہ گیروں اورعام شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ دوسری طرف گاڑیوں کو بھی آگ لگائی جارہی ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ یوم سیاہ کے دوران دہشت گردوں کے خونی کھیل کے نتیجے میں کل سے اب تک ایم کیوایم کے کارکنوں سمیت 25 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں لیکن شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110