10 ۔ مولانا مقصود علی ڈومکی (ضلعی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ) : ۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رہنما مولانا مقصود ڈومکی نے کہا کہ کوئٹہ میں ہر روز حسینیوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ مخالفین کو جان لینا چاہیے کہ شیعہ قوم نہ ہی تو کمزور ہے اور نہ ہی ان کا دشمن طاقتور ہے۔ جس قوم کے چار کروڑ افراد یک زبان ہو کر لبیک یا حسین (ع) کی آواز بلند کریں اسے کمزور سمجھنا حماقت ہے اور اسے شکست سے دوچار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جمہوری ہو یا فوجی آمریت، کوئی بھی طاقت عزاداری کو نہیں روک سکتی۔ ہمارا اجتماعی مسئلہ عزاداری کا نہیں عزاداروں کا تحفظ ہے۔ ہمیں دیگر قومی مسائل کی طرح عزاداری کے حوالے سے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کی سب سے بڑی طاقت انجمنیں ہیں۔ یہ طاقت کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ انجمن عزاداری کے پروگرام کرتی ہیں لیکن سیکورٹی پر توجہ نہیں دیتی ہیں۔ انہوں نے تجاویز پیش کیں کہ تمام ماتمی انجمنوں کو ملک گیر سطح پر مضبوط کیا جائے اور انہیں سیکورٹی کے حوالے سے ٹھوس لائحہ عمل دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خراب صورتحال میں ہمارے نوجوان اسلحہ تو اٹھا لیتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گولی کس پر چلانی ہے جس کی وجہ سے ہمیں فائدے کی بجاے نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس ضمن میں کسی تجربہ کار راہنما کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رضا کاروں کی قومی سطح پر ایک مکمل فہرست بنائی جائے۔ مولانا مقصود ڈومکی نے کہا کہ عصر حاضر میں ملت جعفریہ کو قومی سطح پر ایک جماعت تشکیل دینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ایسی جماعت جسے ہر شیعہ اپنی جماعت کہہ سکے۔ مرکزی سطح پر ایک کتابچہ مرتب کیا جائے جس میں عزاداری کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ نکات شامل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ مقتل گاہ بنا ہوا ہے۔ علامہ ہاشم موسوی اور ان کے دیگر انقلابی ساتھیوں کو چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے۔ انتظامیہ نے یوم القدس ریلی کے دوران شہید ہونے والے 70/75 افراد کے قتل کا مقدمہ بھی ہم پر بنایا۔ انہوں نے اپیل کی کہ شہدائے کوئٹہ کے چہلم میں ملک کے ہر علاقہ کے افراد شامل ہو کر اپنے اپنے علاقے کی نمائندگی کریں۔ ۱۱۔ تصور حسین جوادی (سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ریاست کشمیر) : ۔ مجلس وحدت مسلمین ریاست کشمیر کے سیکرٹری جنرل تصور حسین جوادی نے کہا حیرانگی کی بات ہے کہ دنیا کو غم سید الشہداء منانے سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ غم منانے والوں کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لاشیں اٹھانے کا حوصلہ کربلا سے ملا۔ مولا حسین (ع) نے ایک ہی روز 72 لاشے اٹھائے تھے۔ انہوں نے شہدائے کوئٹہ کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عالمی استعمار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ تصور حسین جوادی نے ملت جعفریہ کے اکابرین سے اپیل کی کہ وہ مولا علی (ع) کے نام پر اکٹھے ہو جائیں اور استعماری قوتوں کا اجتماعی طاقت سے مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ مجلس وحدت مسلمین نے ہمیں متحد ہونے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کی پالیسیاں ہمارے لیے باعث فخر ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں جزوی اختلافات ختم کر دینے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا کنونشن سرور کائنات نے 18 ذوالحجہ کو مقام غدیر پر منعقد کیا تھا اور ہمارا تعلق اسی غدیری کنونشن سے ہے۔ انہوں نے وادی کشمیر کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 ءکے زلزلے سے قبل شیعہ سنی باہم شیروشکر تھے۔ متاثرین زلزلہ کی بحالی کے لیے تمام افراد نے مسلک کی بناءپر کام کیا لیکن ہمارے اکابرین نمبر گیم کھیلتے رہے۔ اب جہاد کشمیر کے عنوان سے کالعدم جہادی تحریکوں کو کاروان کشمیر کے نام سے منظم کیا جا رہا ہے۔ سپاہ صحابہ کے عسکری ونگ کو المحمدیہ اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ جو ملت جعفریہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی انقلاب کے لیے خون اور پیغام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئٹہ سے لے کر کشمیر اور پاراچنار تک ہماری قوم خون دے رہی ہے، لیکن پیغام قائدین نے دینا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے اسباب و عوامل تلاش کیے جائیں۔ ملت جعفریہ کے خلاف متحد ہونے والی کالعدم تنظیموں کا راستہ روکنے کے سابق عسکری ملازمین پر مشتمل ایک منظم گروپ تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے ملک کے طول و عرض میں شیعہ قوم کی رہنمائی کے لیے ایک قومی اخبار کے اجراءاور ایک ٹی وی چینل لانچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 12۔ گلاب حسین طوری (رہنما طوری بنگش سپریم کونسل پاراچنار) : ۔ گلاب حسین طوری نے کہا کہ پاراچنار کے مومنین پاکستان کی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کرم ایجنسی کے سوا کسی بھی دیگر ایجنسی میں پاکستان کا پرچم سربلند نہیں، دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے ساتھ سیکورٹی فورسز نبردآزما ہیں لیکن کرم ایجنسی میں صرف ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، ستمبر میں ایک گاﺅں پر افغانستان سے لشکر کشی ہوئی اور پورے گاﺅں کو روند ڈالا گیا لیکن ہماری سننے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا عزاداری ہماری شہ رگ ہے۔ اس لیے ہمیں عزاداری کے تحفظ کے لیے منظم ہونا پڑے گا۔ عزاداری ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے اس میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے مٹ جائیں گے۔ اس ملک کی بنیادوں میں ہمارے آباﺅاجداد کا خون شامل ہے اور ہم ملک کے ساتھ ساتھ عزاداری اور اپنے عقائد کا بھی تحفظ کریں گے۔ 13۔ جناب عبدالعلی عسکری : ۔ ملت جعفریہ کی ممتاز شخصیت عبدالعلی عسکری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عزاداری کے تحفظ کے لیے ماضی میں کئی میٹنگز اور متعدد اجلاس ہوئے لیکن ان کے مطلوبہ نتائج نہ مل سکے۔ ہم اب بھی اپنے لہو میں تڑپ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ عزاداری کے دو پہلو ہیں۔ عزاداری کے ذمہ داران اور حکومتی ذمہ داریاں، عزاداری کے ذمہ داران علمی اور ادبی اعتبار سے حسینیت کے پرچار میں کمی نہ آنے دیں اور اس مقصد کے لیے مخصوص طریقہ کار وضع ہونا چاہیے۔ جبکہ دوسری جانب یا تو قانون میں کوئی کمزوری ہے کہ دہشت گردوں کو سزا نہیں ملتی یا پھر حکمران دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ آج تحفظ عزاداری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے وقت ہمیں ان تمام پہلوﺅں پر غور و خوض کرنا ہو گا۔ سب جانتے ہیں کہ جی ایچ کیو، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کرنے والوں کی کڑیاں ایک جیسی ہیں۔ اس لیے چیف آف آرمی سٹاف کو اس صورت حال پر توجہ دینا چاہیے۔ ہم گلگت اور کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ اس خونریزی کو بند کرایا جائے۔ 14۔ جناب حیدر علی مرزا : ۔ ملت جعفریہ کی ممتاز شخصیت حیدر علی مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم حکمرانوں سے بحیثیت شیعہ قوم جینے کا حق مانگتے ہیں۔ ہمارا اوڑھنا بچھونا اور ہماری پہچان شیعیت ہے۔ ہم اتحاد چاہتے ہیں، ادغام نہیں۔ اپنے عقیدے پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ طاقت کے بل بوتے پر ہمارے عقیدے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سر اٹھا کر چلنا ہمارا ایمان ہے، سر جھکانا ہمارے اسلاف کی روایت نہیں۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا۔ جبکہ ہمارے مخالفین نے نہرو کی یاترا کی۔ ہم پاکستان کی سا لمیت چاہتے ہیں ۔ جنہوں نے قائداعظم کو کافر اعظم اور پاکستان کو کافرستان کہا تھاوہ آج بھی پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجلس وحدت مسلمین کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ ملت جعفریہ متحد ہو رہی ہے۔ ہم اس پاک سرزمین سے انتشار اور خلفشار کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ ہم ملت کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ملت کو توڑنے والوں کے خلاف صف بستہ کھڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فروعی اختلافات کو عنوان خطابت بنانے والے اپنا قبلہ درست کر لیں اور ولایت علی (ع) پر یکجا ہو کر دشمن کا ملیا میٹ کر دیں۔ ہمیں اپنے اندورنی اختلافات کو اچھالنے کی بجائے یک جہتی کا اظہار کرنا ہو گا اور بالخصوص پبلک مقامات پر ہمیں ایک نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر محمد و آل محمد (ص) کا کرم ہے کہ ہمیں ان علمائے کرام کی رہنمائی حاصل ہے کہ جن کا دامن بے داغ ہے۔ علامہ حسن ظفر نقوی کراچی کے میدان کارزار میں شیرانہ لب و لہجہ میں جو کردار ادا کر رہے ہیں وہ ہمای ملت کی پیشانی کا جھومر ہے۔ علامہ محمد امین شہیدی، علامہ عبدالخالق اسدی جیسے رہنما ہماری قوم کے لیے باعث فخر ہیں اور ہم ان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اگر کسی کے دماغ میں یہ فتور ہے کہ عزاداری کو محدود کر دیا جائے گا تو وہ اپنی غلط فہمی کو دور کر لے۔ عزاداری کو محدود کرنے والوں کا نہ تو کوئی ماضی ہے اور نہ مستقبل۔ ہم عزاداری پر کوئی سودا قبول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ عزاداری کے جلوس بڑھ چڑھ کر نکالیں گے اور روکنے والے اپنے فاسد عقائد کا اپنی آنکھوں سے ملیا میٹ ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کے جلوسوں کو محدود کرنے کی تجویز ساجد میر نے پیش کی تھی اور اس کی تائید مجیب الرحمن شامی نے کی۔ ہم ان دونوں مادر پدر آزاد شخصیات کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبت اہل بیت (ع) پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اہل بیت (ع) کے نام پر ہم مٹ سکتے ہیں لیکن شکست مٹانے والوں کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کا تحفظ ضروری ہے۔ اگر عزاداری نہیں ہو گی تو نہ ہم ہوں گے اور نہ ہی امام بارگاہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 اکتوبر کو ناصر باغ لاہور میں شہدائے کربلا گامے شاہ کے چہلم کا عظیم اجتماع عزاداری کو روکنے والوں کی آنکھیں کھول دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ ایک پر امن قوم ہے۔ املاک کو نقصان پہنچانا اور توڑ پھوڑ کرنا ہمارا شیوہ نہیں لیکن اگر عزاداری کو روکو گے تو ہم عزاداری کے جلوس نکال کر دکھائیں گے۔ 15۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی (مرکزی ترجمان مجلس وحدت مسلمین پاکستان) : ۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم زندہ تھے، زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ ہمارے مخالفین مل کر بھی ہمیں نہیں مٹا سکتے۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ عزاداری کا تحفظ ہے۔ کراچی سے لے کر پاراچنار تک ایک ہی صورت حال ہے۔ لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں اور سڑکوں پر ملت جعفریہ کے افراد کا خون بکھرا نظر آتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ جب ہم مکمل طور پر تیار ہو جائیں گے تو ہمارے ذہنوں سے خوف خود بخود مٹ جائے گا اور ہمیں آگ اور خون کے سمندر سے نکلنے کا حوصلہ ملے گا۔ آج جو جلوسوں کو روکوانے کی بات کرتے ہیں انہیں جلوس روکوانے کے لیے خود جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں۔ آج ڈاکٹر عافیہ کے لیے احتجاجی جلسے اور جلوس نکل رہے ہیں اور جلوس نکالنے والوں کو امریکہ یزید نظر آرہا ہے۔ ہمیں چودہ صدیوں سے معلوم ہے کہ یزید کون ہے۔ جب خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات کا اکلوتا بیٹا مارا گیا تو اس نے کہا کہ قاتل حافظ قرآن تھے۔ ہم مولا حسین (ع) کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں شہید کرنے والوں میں چار سو حافظ قرآن تھے۔ ہم جس بات کا پرچار صدیوں سے کر رہے ہیں اس کا احساس آج وزیر
3 اکتوبر 2010 - 20:30
News ID: 207479
دوسری نشست ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔