وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج اپنی ہفتےوار پریس بریفنگ میں روس کی جانب سے ایس 300 میزائلوں کی خریداری کی قرارداد کویکطرفہ طورپر منسوخ کردیئےجانےکےمسئلےاور ایران کی جانب سےقانونی چارہ جوئی کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ اگریہ اقدام قرارداد1929 کی بنیادپر ہے توہم اعلان کرتےہیں کہ غیرقانونی اورغیرمنصفانہ قرارداد1929 کااطلاق دفاعی ہتھیاروں پرنہيں ہوتا۔مہمان پرست نےاس بات پرتاکیدکرتےہوئےکہ ملت ایران پراس کےحقوق سےپیچھےہٹانےکےلئے سیاسی دباؤ کاکوئي اثرنہیں ہےکہاکہ تہران اورماسکونےایسی قرارداد اورمعاہدےپردستخط کئےہيں جس پرروسی فریق کو عمل کرناچاہئے۔رامین مہمان پرست نےکاروان غزہ پرصیہونی کمانڈوزکےحملےکی مذمت کاخیرمقدم کرتےہوئےکہاکہ یہ واضح ہوناچاہئےکہ صیہونی حکومت اپنےپڑوسی ملکوں کےحقوق کوپامال کررہی ہے اور جرائم کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہے اورجب تک مغربی ممالک صیہونی حکومت کی حمایت کرتےرہیں گے اس وقت تک علاقےمیں اس کےجرائم کاسلسلہ بند نہيں ہوگا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نےایٹمی مذاکرات کےبارےميں کہاکہ تہران مذاکرات کا، تین مختلف گروہوں اورتین مختلف جہتوں سے جائزہ لیاجارہاہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نےمزیدکہاکہ ایندھن کےتبادلےکےمسئلہ کاویاناگروپ کےساتھ جائزہ لیاجارہاہے اور اس کاابتدائی مرحلہ طےپاچکاہے اور ایران تہران اعلامیےکی بنیاد پرمذاکرات جاری رکھنےکےلئےتیارہے تاکہ آخرکارایندھن کاتبادلہ انجام پاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110