اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کو موصولہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ضلع جھنگ میں معروف اور شریف النفس عالم دین علامہ سید اظہر حسین کاظمی کے خلاف نامعلوم افراد کے دباﺅ پر تھانہ کوتوالی جھنگ نے توہین رسالت (ص) کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرالی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ایف آئی آر میں یہ بھونڈا اور جھوٹا الزام لگایا گیا ہے کہ علامہ نے ایس ایم ایس کے ذریعے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے جبکہ علامہ کاظمی کہتے ہیں کہ یہ سراسر بے بنیاد اور جھوٹا الزام ہے کیونکہ جس نمبر کے حوالے سے یہ الزام لگایا گیا ہے وہ نمبر کبھی بھی اس کے استعمال میں رہا ہی نہ ہی وہ سم کارڈ ان کے نام پر ہے اور نہ ہی وہ اس نمبر سے واقف ہیں۔
جھوٹی ایف آئی آر کا نمبر ۵۴۸ ہے جو توہین رسالت کے دفعہ ۵۹۲-سیزیر کی تحت درج ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ جمعۃالوداع رمضان المبارک سنہ 1431 ہجری کو ـ یعنی آج سے چند روز ہی قبل ـ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جب دہشت گردوں نے بم دھماکہ کرکے 30 افراد کو شہید کیا اور نام نہاد انسداد دہشت گردی فورس، (جو 2004 سے اب تک کئی مرتبہ ثابت کرچکی ہے کہ خود ہی دہشت گرد فورس ہے) پولیس اور ایف سی نے فائرنگ کھول کر شہداء کی تعداد میں تقریباً 40 افراد کا اضافہ کیا تو میزان چوک سے ملحقہ سٹی تھانے میں دہشت گردوں اور ان کے سرکاری سرپرستوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے صاف انکار کیا گیا لیکن یہاں ایک ایس ایم ایس پیغام کا سہارا لے کر ایک معزز عالم دین کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر اتنی آسانی سے درج ہوچکی ہے !!
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام حکومت کے قیام و دوام اور ترقی و قوام کو عدل و انصاف پر مبنی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
الملک يبقی مع الکفر ولا يبقی مع الظلم.
’’حکومت کفر کی ہو تو وہ قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم و ناانصافی آجائے تو ہرگز باقی نہیں رہ سکتی‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
15 ستمبر 2010 - 19:30
News ID: 205428
انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کے بعد اہل تشیع کے علمائے کرام کو ہراساں کرنے کا سلسلہ پنجاب کے ضلع جھنگ تک بھی جا پہنچا۔