سات گھنٹے تک جاری رہنے والی کانفرنس میں 2 گھنٹے تقاریر اور بقیہ دو گھنٹوں میں مسئلہ کشمیر اور موجودہ شورش پر بحث ہوئی۔ اجلاس میں شریک 230 اہم رہنماؤں میں کسی ایشو پر اتفاق نہ ہوسکا تاہم یہ طے پایا کہ وادی میں فورس بڑھائی جائے جبکہ اجلاس میں تجاویز دی گئی کہ دہشت گردوں کے خلاف فضائی آپریشن کئے جائیں۔ کانفرنس میں اپوزیشن نے حکمران گروپس کے کسی نکتہ پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء نے واضح طور سے کہا ہے کہ کشمیر کے اندر حالات سرحد پار کی مداخلت سے خراب ہورہے ہیں۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ کشمیری عورتوں، بچوں اور نوجوانوں کے مظاہروں نے ہلا کر رکھ دیا ہے، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ ہمیں کشمیریوں کے غصے کی وجہ سمجھنی چاہیے جبکہ وزیرداخلہ چدم برم کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین کے مطابق کشمیریوں کی ہر خواہش پوری کی جائیگی۔ بی جے پی کے صدرنتن جے رام گڈ کرنی اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا ہم یہاں وزیر داخلہ کی تقریر سننے نہیں آئے ہیں یہ سب باتیں لوک اور راجیہ سبھا میں ہوتی رہتی ہیں وزیر بتائیں کہ کشمیر کے اندر بڑھنے والی یہ نئی شورش کیوں شروع ہوئی ہے اس کے تانے بانے کہاں سے جڑے ہیں۔ ایل کے ایڈوانی نے کہا کہ کمزور فیصلے ہماری فورسز پر حملے کا سبب ہیں، کشمیری پنڈتوں کے نمائندے نے واضح کیاکہ کشمیر کے اندر پھیلی اس دہشت گردی کو سرحد پار سے حمایت حاصل ہے ۔ کمیونسٹ لیڈر سیتارام نے کہا تشدد اور فوج کشی سے مسئلہ مزید بگڑے گا، مذاکرات ہی واحد حل ہے۔ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ کے موقف کی کسی اپوزیشن جماعت نے حمایت نہیں کی اور انہیں کشمیرمیں شورش کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کشمیر کی صورتحال کے جائزے کیلئے بھارتی وزیرداخلہ کی قیادت میں وفد کشمیر جائیگا۔ اس وفد میں کون کون شامل ہوگا اور یہ وفد کب جائیگا اس کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائیگا۔
.......
/110