علی رضا مقامی اخبار کا رپورٹر تھا اور یکم ستمبر کو یوم شہادت حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ الصلواۃ و السلام کے جلوس کی کوریج کررہا تھا کہ امام بارگاہ گامے شاہ اور بھاٹی گیٹ کے سامنے ہونے والے پے در پے تین خود کش دھماکوں میں زخمی ہوا جس کے بعد علاج کی غرض سے میو اسپتال منتقل کیا گیا تاہم دو روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملا جس کے بعد شہید ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110