1 ستمبر 2010 - 19:30

لاہور میں یوم شہادت حضرت علی علیہ السلام کے مرکزی جلوس کے موقع پر نصف گھنٹے کے اندر تین دھماکے ہوئے جن میں29 افراد شہید اورسے200 زائد زخمی ہوگئے۔

 دوسری طرف کالعدم لشکرجھنگوی العالمی نے لاہور دھماکوں کی ذمہ قبول کرلی ہے۔ پنجاب حکومت نے صورتحال پر قابوپانے کے لیے رینجرزطلب کرلی۔ لاہور میں پہلا دھماکہ شام سات بجے کے قریب کربلا گامے شاہ کے باہر ہوا جس سے ہرطرف چیخ وپکار اور بھگدڑ مچ گئی، دھماکے کے وقت جلوس کے شرکا افطار کررہے تھے، ابھی زخمیوں کو اٹھایا ہی جارہا تھا کہ دوسرا دھماکہ بھاٹی گیٹ میں ہوا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق دو دھماکے خودکش جبکہ ایک کریکر دھماکہ تھا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکوں میں 29افرا د شہید جبکہ200سے زائد زخمی ہوگئے۔ شہید ہونیوالوں میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکوں کے بعد ریسکیو ٹیموں اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ دھماکوں کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے تھانہ لوئرمال پر حملہ کرکے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی، جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی اور ہوائی فائرنگ کی۔امن و امان کی صورتحال کو قابومیں رکھنے کیلئے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110