اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ سید علی اکبرصالحی نے کہا ہے کہ دس نئے جوہری پلانٹس کے لیے لوکیشن کی تلاش کا کام مکمل ہوگیا ہے جن میں سے ایک پلانٹ اگلے سال مارچ سے تعمیر ہونا شروع ہوجائے گا۔ انھوں نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایٹمی ایندھن کے تبادلے کے سلسلے میں ویانا گروپ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ویانا گروپ نے ذرائع ابلاغ میں تو اپنی آمادگي کا اعلان کیا ہے لیکن ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی اقدام انجام نہیں دیا۔ صالحی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بات چیت کے لئے تیار ہے؛ ایٹمی ایندھن کے تبادلے کا اقدام اعتماد بحال کرنے کے لئے ایک اچھا اقدام ہے جو فریقین کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔علی اکبرصالحی نے مزید کہا کہ آئندہ بننے والی ہرسائٹ میں اتنا ایندھن تیارکرنےکی صلاحیت موجود ہوگی جتناایندھن بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے لئے ضروری ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کےترقیاتی منصوبےکےمطابق حکومت کو بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے ایٹمی بجلی گھروں کا ایندھن تیار کرنے کا ہدف دیا گیا ہے اور یورینیم کی افزودگی کے لئے دس پلانٹ لگانا اہم قدم ہے۔اس سے پہلے صالحی نے کہا تھا کہ نئے یورینیم کے پلانٹ ایسی جگہ پر تعمیر کیے جائیں گے جو فضائی حملے سے محفوظ رہیں گے۔...........
/110