کل چارجدیدترین آبدوزیں اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کےحوالےکی گئي ہيں۔بریگیڈیئر جنرل احمدی وحیدی نے آج العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے پیچیدہ بحری صنعتوں میں ایران کی کامیابیوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی سلامتی، علاقے کے عوام کی جانب سے فراہم ہونی چاہئے اور اس خطے کے لئے اغیار کی افواج کی کوئی ضرورت نہيں ہے۔وزير دفاع نے ملک کے اندر تیار کی جانے والی غدیر نامی چار آبدوزیں بحریہ کےحوالےکئےجانے اور عسکری شعبے میں ایران کی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آبدوزیں خلیج فارس کے علاقے کے دفاع اور علاقے کی سلامتی کے تحفظ کے لئے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ یہ آبدوزین بہت ہی تیزرفتاری اور چابکدستی کے ساتھ اپنا مشن انجام دینے کی توانائی رکھتی ہيں ان آبدوزوں میں خودکار کنٹرول سسٹم اور کم گہرے سمندر میں چھوٹی گن بوٹوں کو بھی تیزرفتاری کے ساتھ لوڈ کرنے کی صلاحیت ہے۔
وزیردفاع وحیدی نے کہاکہ یہ آبدوزیں جدیدسسٹم سے لیس تارپیڈو کو بھی تیزی کے ساتھ سمندر میں پھینکنے کی توانائی رکھتی ہيں انھوں نے کہاکہ یہ آبدوزيں پوری دقت کے ساتھ اپنے دشمن کے ٹھکانے کونشانہ بناسکتی ہيں ۔ انھوں نے کہاکہ غدیر نامی آبدوزيں بحریہ کے جوانوں کوایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے علاوہ دشمن کی جنگی کشتیوں اورجہازوں کا پتہ لگانے اورانھیں روکنے کی صلاحیت رکھتی ہيں جبکہ ساتھ ہی یہ آبدوزیں راڈار سے خود کوپوشیدہ بھی رکھ سکتی ہيں انھوں نے کہاکہ ان آبدوزوں کے بحریہ میں شامل ہوجانے کے بعد ایران کی دفاعی ضروریات مکمل ہوچکی ہيں اور ایران کی یہ دفاعی صلاحیتں خلیج فارس اوربحیرہ عمان کے علاقے کی سلامتی کے لئے ہيں ۔.......
/110