حریت کانفرنس کی طرف سے ہر آئے دن دی جانے والی پرامن احتجاجی جلوس کی کالیں کشیمری مسلمانوں میں جذبہ شہادت کو بڑھاوا دیتی ہیں۔اور نوجوان اپنے سینے پر گولیاں کھانے کے لیے ہندوستانی فوج سے ٹکر لے لیتے ہیں۔بزرگ علیحدگی پسند اور حریت کانفرنس(گ) چیئرمین سید علی گیلانی کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کی جانب سے پر امن احتجاجی جلوس نکالنے کے باوجود پولیس اور سی آر پی ایف کی بندوقوں نے آگ اگلنے کا سلسلہ بند نہیں کیا اور جمعرات کوفورسزنے حسب روایت کشمیر کے ضلع پلوامہ اور سامبورہ پانپور میں پرامن مظاہرین اور رضا کاروں پر اندھادھند فائرنگ کرکے ایک شخص کو جاں بحق اور29دیگر کوزخمی کردیا جن میں کئی ایک کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے۔اس دوران بدھ کی شب پائین شہر کے علاقہ میں ہندوستان کی فوج سی آر پی ایف کی بلااشتعال فائرنگ سے زخمی ہونے والا47سالہ غریب مزدور اور اپنی بوڑھی ماں کا اکلوتاسہاراہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا اور اس طرح گذشتہ جمعہ سے وادی میں تشدد کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد31 جبکہ 49روز کے عرصے میں ہلاکتوں کی تعداد56تک پہنچ گئی۔ دریں اثناءوادی میں سخت ترین کرفیو ساتویں روز بھی جاری رہا جس کے دوران سرینگر سمیت وادی کے متعددعلاقوں میں پر امن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
.........
/110