ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ضلعی تعلیمی سیکریٹریز کے اجلاس میں خطاب کے دوران کیا۔موصولہ رپورٹ کے مطابق علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ علماء اور فلاسفہ نے عقل کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: عقل نظری اور عقل عملی؛ عقل نظری کے ذریعے انسانی کمال عملی حاصل کرتا ہے اور عملی طور پر ماہر ہو جاتا ہے جبکہ عقل عملی کے ذریعے انسانی تربیتی طور پر کامل ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی قوم کے علمی رحجان کو درست طور پر تقسیم کرنے اور ان کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے سارے طلباء سائنس کے میدان میں ہی جاتے رہیں اور ایسا بھی نہ ہو کہ ہمارے سارے طلباء آرٹس کے میدان میں جاتے رہیں، ہمیں ڈاکٹرز، انجینئرز کے ساتھ ساتھ اچھے اکانومسٹس، تاریخ دانوں، سیاسیات کے ماہرین اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے طلباء کے رحجان کو درست انداز میں تقسیم کرنا چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے دیگر میدانوں کی طرح تعلیمی میدان میں بھی ملت کو ارتقاء تک پہنچانے کا بیڑا اٹھایا ہے؛ کیونکہ آج اگر ہمارا دشمن ہم سے خائف ہے تو وہ ہماری قوم کے جوانوں کے اندر موجود بڑھتی ہوئی علمی تشنگی اور علمی شعور ہی کی بنا پر ہے اور انشاء اللہ اس علمی ارتقاء کو حاصل کرنے کے لیے مجلس وحدت مسلمین طویل المدتی منصوبہ بندی کرے گی۔
.......
/110