17 ستمبر 2010 - 19:30

برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے اعتراف کرلیا کہ برطانیہ کو عراق اور افغانستان میں جنگ کی حمایت مہنگی پڑی اور اِس کی وجہ سے خود اُس کی سرزمین پر دہشت گرد پیدا ہونا شروع ہوگئے۔

لندن میں عراق جنگ کی انکوائری کے سلسلے میں سماعت کے موقع پر دو ہزار دو سے دو ہزار سات تک ایم آئی فائیو کی سربراہ رہنے والی ایلیزا مینِنگھم بُلر کا کہنا تھا کہ حکومت نے اِن وارننگز پر کان نہیں دھرا کہ عراق جنگ برطانیہ کے اندر انتہاپسندی کے فروغ کا سبب بنے گی۔ جب عراق کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا گیا اُس وقت دستیاب انٹیلی جنس معلومات ناکافی تھیں۔ پہلے افغانستان اور پھر عراق جنگ میں برطانیہ کے ملوث ہونے کو نوجوان نسل کے ایک حصے نے اسلام کے خلاف حملہ تصور کیا۔ امریکا کی سربراہی میں ہونے والی جارحیت نے برطانیہ کے خلاف دہشت گرد منصوبوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا۔ خفیہ ادارے کی سابق سربراہ نے پہلی بار انکشاف کیا کہ تقریبأ ستر سے اسی برطانوی شہری جنگ کے بعد عراق گئے اور عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر اتحادی فوج کے کے خلاف لڑائیوں میں حصہ لیا۔مینِنگھم بُلر کا کہنا تھا کہ دو ہزار تین کے حملے سے پہلے عراق اتنا بڑا خطرہ نہیں تھا اور اس بات کے بھی کوئی شواہد نہیں تھے کہ سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے کوئی تعلق ہے۔ نائن الیون واقعے کا عراق سے تعلق جوڑنے کیلئے امریکی حکام نے ناقص انٹیلی جنس کا سہارا لیا، خاص کر سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے جنگ کیلئے راہ ہموار کی۔بُلر نے بتایا کہ ایم آئی فائیو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا یہ بنیادی جواز تسلیم نہیں کیا تھا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جس سے مغرب کو خطرہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110