17 ستمبر 2010 - 19:30

عالم ربانی حضرت آیت اللہ سید عباس کاشانی ـ جو عرصۂ دراز سے علیل تھے ـ کچھ عرصہ قبل بیماری کی شدت کی بنا پر تہران کے خاتم الانبیاء (ص) ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ برسوں کی علالت کی دشواریاں برداشت کرنے کے بعد آج صبح دیدار معبود کی جانب کوچ کرگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی سید عباس حسینی کاشانی آج صبح 80 سال کی عمر میں تہران کے خاتم الانبیاء (ص) ہسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ مرحوم آقا سید عباس کاشانی کے فرزند سید ہادی کاشانی نے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: بابا کی وفات کا سبب یہ تھا کہ ان کے پورے خون میں انفیکشن پھیل گئی تھی اور آخرکار ان کی حرکت قلب بند ہوگئی اور آج بھی دو مرتبہ ان کے گردوں کو فعال کرنے کی کوشش کی گئی مگر کارگر ثابت نہ ہوئی اور ان کے پھیپھڑوں، گردوں، جگر اور دل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔انہوں نے کہا: والد 30 روز تک قم کے ولی عصر (عج) ہسپتال اور ایک ہفتہ تہران کے خاتم الانبیاء (ص)  ہسپتال میں زیر علاج رہے۔ مرحوم آیت اللہ العظمی سید عباس حسینی کاشانی کی میت تہران سے قم منتقل کی گئی ہے اور رسا نیوز ایجنسی نے ان کے فرزند سید مغیث الدین کاشانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مرحوم عالم ربانی کا جنازہ منگل (20 جولائی) کو خیابان شہداء (صفائیہ) سے اٹھایا جائے گا اور وہاں سے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی جانب منتقل کیا جائے گا اور قوی امکان ہے کہ انہیں حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے حرم مطہر میں ہی دفنادیا جائے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ اس عالم ملکوتی کی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے حضرت ولی عصر (ارواح العالمیں لہ الفداء)، رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، مراجع عظام تقلید، مرحوم کے معزز گھرانے اور فرزندوں، عقیدتمندوں اور شیعیان اہل بیت (ع) کو تعزیت و تسلیت عرض کرتی ہے۔آیة اللہ العظمی سید عباس کاشانی کے مختصر حالات زندگیآیت اللہ العظمی سید عباس حسینی کاشانی سنہ 12 اگست 1930 (بمطابق 17 ربیع الاول 1349 ہجری) کو کربلائے معلی میں پیدا ہوئے اور لڑکپن کے زمانے میں کربلا اور نجف کے حوزات علمیہ میں حصول تعلیم کا آغاز کیا اور اٹھارہ سال کی عمر میں درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے۔ آپ 20 برس کی عمر میں عارف سالک حضرت آیت اللہ سید علی قاضی طباطبائی کے حضور شرفیاب ہوئے اور ان سے فیض حاصل کیا۔ درحقیقت آیت اللہ کاشانی سید علی قاضی کے آخری شاگرد تھے جو آج صبح تک بقید حیات تھے۔ اخلاق و عرفان کے اس استاد جلیل نے آیات عظام خوئی اور میلانی سے بھی کسب فیض کیا اور عرصہ دراز تک کربلائے معلی میں سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر کے امام جمعہ و جماعت تھے اور آخر کا صدام آمریت کے دور میں عراق سے جلاوطن کئے گئے۔ آیت اللہ کاشانی نے بڑی تعداد میں کتابیں تألیف کی ہیں اور اس وقت ان کی 260 غیرمطبوعہ کاوشیں موجود ہیں۔ ان کی ایک مطبوعہ کتاب "المخازن" ہے جو علوم غریبہ سے تعلق رکھتی ہے اور وہابیت کی رد میں بھی آپ نے متعدد کتابیں عربی میں تحریر فرمائی ہیں۔ مصابیح الجنان ان کی دوسری کاوش جو فقید سعید کے قلم سے رشتہ تحریر میں آئی ہے اور ایران، کویت اور لبنان میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔ یہ کتاب شیخ عباس قمی کی مفاتیح الجنان اور آیت اللہ مکارم کی مفاتیح نوین کی مانند دعاؤں کا مجموعه ہے۔مرحوم آیت اللہ العظمی سید عباس کاشانی گذشتہ اٹھارہ برس سے علیل تھے لیکن آخری وقت تک بیماری سے کبھی شکایت نہیں کی بلکہ صبر و شکر کا مجسمہ تھے۔

...........

/110