اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مسافر گاڑیوں کاقافلہ سیکورٹی فورسز کی زیر نگرانی پاراچنار سے پشاور جا رہا تھا کہ اس دوران لوئر کرم کے علاقے اوچت میں طالبان ناصبی دہشت گردوں نے قافلے پرخود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس سے دو گاڑیوں میں سوار پانچ شیعہ مسافر شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔معلوم ہوتا ہے کہ سیکورٹی والوں کو دہشت گردوں کے حملے کا پہلے سے علم تھا اور انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی قافلے کو ان کی حدود میں پہنچا کر بےیار و مددگار چھوڑا ہے۔زخمیوں کو ٹل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 13شیعہ مسافر شہید ہو گئے جب کہ چار زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق قافلے میں شامل دیگر گاڑیاں حملے کے بعد علیزئی کی طرف واپس چلی گئیں جبکہ پشاور سے پاراچنار آنے والے قافلے کو ٹل شہر میں ہی روک لیا گیا۔یاد رہے کہ طالبان دہشت گردوں کے حملوں میں شہید اور زخمی مسافروں کا تعلق پاراچنار سے ہے ۔دوسری جانب پاراچنار سے تعلق رکھنے والے ایم این اے ساجد حسین طوری نے واقعے کو کھلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے مؤثراقدامات کیے جائیں۔یادرہے کہ کچھ دن قبل افغانستان کے راستے پشاور جانے والے ایک قافلے پر بھی وہابی دہشت گردوں نے حملہ کرکے 14 افراد کو شہید کردیا تھا۔طالبان سلفی دہشت گردوں نے گذشتہ تین برسوں سے پارا چنار اور ملحقہ علاقوں کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے پاراچنار کی پانچ لاکھ سے زائد شیعہ عوام طالبان دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ حکومت محاصرے کو ختم کرانے میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں لے رہی ہے جسکی بنا پر پاراچنار کے شہریوں کو افغانستان کے راستے پشاور آنا پڑتا ہے ۔کرم ایجنسی میں شیعہ مسافروں کی بس پر ہونے والی سفاکانہ دہشت گردی کے بعد جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری اور آئی ایس او پاکستان سمیت دیگر شیعہ تنظیموں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت کرم ایجنسی میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرے اور نااہل کرم انتظامیہ کو فوری طور پر برطرف کرے اور طالبان دہشت گردوں سے پاراچنار کے پانچ لاکھ شیعہ عوام کو نجات دلائی جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ پاراچنار کی طرف لانگ مارچ کرے گی اور اس محاصرے کوتوڑ دیا جائے گا۔
(بشکریہ از شیعیت نیوز)
یاد رہے کہ شہداء میں آٹھ خواتین اور ایک بھی شامل ہیں۔ حکومت پاکستان پر تو خاموشی اور رد عمل ظاہر نہ کرنے کا الزام لگانا ہی فضول ہے کیونکہ قافلے کی حفاظت پر مأمور سیکورٹی اہلکاروں کو نہ تو اس حملے میں کوئی نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی انھوں نے کوئی رد عمل ظاہر کیا ہے بلکہ نشانیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکورٹی والوں کو دہشت گردوں کے حملے کا پہلے سے علم تھا اور انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی قافلے کو ان کی حدود میں پہنچا کر بےیار و مددگار چھوڑا ہے جس سے کرم ایجنسی کی حد تک حکومت ـ طالبان گٹھ جوڑ کا پتہ چلتا ہے لیکن پاکستان اہل تشیع کی نسل کشی پر نہ تو پاکستان کی اندرونی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں کوئی آواز اٹھاتی ہیں اور نہ ہی آفاق و انفس کی سماعتیں انسانی حقوق کی حمایت کے نعرے لگا لگا بہری کرنے والی عالمی تنظیموں نے ابھی تک کوئی اقدام کیا ہے۔ پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر اظہار خیال کی آزادی کے نعرے والے اندرونی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی کوئی آواز نہیں اٹھارہیں اور دنیا کی کسی بھی حصے میں کسی ایک مغربی باشندے کے مرنے پر چیخنے چلانے والی عالمی ایجنسیوں کے کان پر بھی ہزاروں شہیدوں اور لاکھوں قلعہ بند عوام کے مصائب و مسائل کے باوجود، جوں تک نہیں رینگتی۔ہم انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے دل جلانے والی عالمی و مغربی طاقتوں سے ایک سادہ سا سوال پوچھتے ہیں کہ کیا شیعیان پاکستان ابنائے بشر نہیں ہیں؟ اگر ان کے خیال میں وہ انسان نہیں ہیں اور ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں تو اس بات کا اعلان کیوں نہیں کرتیں اور اگر پھر وہ انہیں انسان سمجھتی ہیں اور ان کے لئے حقوق کی قائل ہیں تو پھر ہمیں یہ بتائیں کہ وہابیوں کے اتنے سارے جرائم پر خاموش کیوں ہیں؟ اور یہ کہ کیا ان کی خاموشی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے وہابیوں کے ساتھ مشترکہ مفادات ہیں اور وہابی امریکی و اسرائیلی مفادات کے لئے اس علاقے میں کام کررہے ہیں؟قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی شیعہ جماعت "مجلس وحدت مسلمین" نے ملک میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کے لئے یکم اگست کو اسلام آباد میں قومی کنونشن کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔......../110