17 ستمبر 2010 - 19:30

اسلامی اور نظریاتی بنیادوں پر تشکیل پانے والی واحد فوج سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نام سے جانی جاتی ہے کہ جسے ایک آٹھ سالہ بھرپور جنگ کا تجربہ ہے۔ صدر ڈاکٹر احمدی نژاد کا خطاب۔

یہ وہ واحد فورس ہے کہ جس کے جوان مکمل طور سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تربیت پاتے ہیں اس کے تینوں شعبے آج پوری طرح فعال ہیں اور کسی میدان میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ یہ وہ فورس ہی کہ جس کے نام اور کام دونوں سے امریکہ اور اسرائیل پر خوف طاری ہوجاتاہے۔چنانچہ صدر ڈاکٹر احمدی نژاد سپاہ پاسداران کو الھی اقدار کی حفاظت کا مستحکم محاذ قراردیتے ہوئے کہتے ہیں:"سپاہ پاسدار نہ صرف ملت ایران کے اطمئنان و چین کا باعث ہے بلکہ تمام یکتا پرستوں اور حریت اور انصاف پسندوں کے لئے اطمئنان وسکون کا سبب ہے"۔  صدر ڈاکٹر احمدی نژاد سپاہ پاسداران کے اعلی کمانڈروں اور عھدیداروں کی انیسویں کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے تین شعبان المعظم یوم میلاد سیدالشہداء علیہ السلام و یوم تأسیس سپاہ پاسداران، کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا: "آج سپاہ پاسداران ترقی اور بالیدگي نیز ظالموں کا مقابلہ اور مظلوم کا دفاع کرنے میں قوم کی خود اعتمادی کا مظہر بن چکی ہے"۔ انھوں نے مختلف شعبوں میں سپاہ پاسداران کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا: "سپاہ کی ذمہ داری صرف فوجی لحاظ سے انقلاب کی حفاظت کرنا ہی نہیں بلکہ مختلف میدانوں میں انقلاب کے اہداف و اقدار کا تحفظ بھی اس انقلابی ادارے کی ذمہ داری ہے"۔ صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا: "سپاہ پاسداران وہ پودا ہےجسے خود امام خمینی (رح) نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا اور آج یہ ایک تناور درخت میں تبدیل ہوچکا ہے اور سامراجی طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور توانائي رکھتا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک سینئیر اہلکار کے بقول سپاہ، نئےخطرات کےمطابق اپنی اسٹریٹیجي تیار کررہی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کےخلاف امریکہ اور صہیونی ریاست کی دھمکیوں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے سپاہ کو جدید ہتیاروں لیس کرنے، اسے جدیدترین خطوط پر ڈھالنے اوراس میں تبدیلی لانےکا کام تیزی سےانجام پا رہا ہے اور یہ تبدیلی، میدان جنگ کے جغرافئے کے لحاظ سے مناسب قوت پیدا کرنے، حملے کی صلاحیت میں اضافہ، سریع الحرکت ردعمل اور تباہ کن صلاحیتوں کو مضبوط بنانےکے مقصد سے عمل میں لائی جارہی ہے۔