پولیس کے مطابق حبیب جالب بلوچ آج صبح موسی کالونی میں بچوں کو گاڑی میں اسکول چھوڑنے کے لئے گھر سے باہر آئے اسی اثنا میں تین مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ اس اثنا میں مسلح حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ بعد میں حبیب جالب بلوچ کے لواحقین اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد سول ہسپتال پہنچ گئی جہاں انہوں نے واقعہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سول ہسپتال کے سامنے جناح روڈ بلاک کردیا۔ جناح روڈ پر تمام دکانیں بند کر دی گئیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز حامد شکیل نے جیو نیوز کو بتایا کہ حبیب جالب بلوچ کو تین نامعلوم حملہ آوروں نے گھر کے قریب نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حبیب جالب کے قتل کے واقعہ کے بعد علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔واضح ہو کہ حبیب جالب بلوچ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل تھے۔ وہ سینیٹ کے رکن بھی رہے۔حبیب جالب بلوچ نے ابتدائی تعلیم کوئٹہ اور اعلی تعلیم روس میں حاصل کی۔انہوں نے وکیل کی حیثیت سے پیشہ ورانہ زندگی جب کہ سیاسی کیرئیر کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رکن کی حیثیت سے کیا۔وہ بعد میں بی ایس او کے چیئرمین بھی رہے۔حبیب جالب نے بلوچستان نیشنل موومنٹ اور بلوچستان نیشنل پارٹی میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دیے۔حبیب جالب بلوچ مارچ 1997میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔حبیب جالب بلوچستان میں حقوق کے حوالے سے جدوجہد میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور انہیں اس حوالے سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
دریں اثناء وزیر اعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے حبیب جالب کے قتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ واقعہ کی بلوچستان ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں گی۔ انہوں نے پولیس حکام کو تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کا بھی حکم دیا۔
بشکریہ از روزنامہ چنگ........
مختصر تبصرہحبیب جالب بلوچ کا قتل افسوسناک ہے اس میں کوئی شک نہیں اور وزیر اعلی بلوچستان کا رد عمل بھی بہت درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران صرف کوئٹہ شہر میں 400 شیعہ باشندے دہشت گردوں کی کاروائیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں اور ان کے قاتل دندناتے پھررہے ہیں اور کالعدم ہونے کے باوجود آزادی کے ساتھ دہشت گردی کررہے ہیں. شیعہ مقتولین میں بڑی شخصیات بھی تھیں اور قومی عمائدین بھی تھے اور پھر کسی وزیر اعلی کے نزدیک ایک عام شہری یا ایک سابق سنیٹر میں فرق ہونا بھی نہیں چاہئے وہ تو سب کا محافظ ہوتا ہے؛ تاہم وزیر اعلی بلوچستان کے جوڈیشل انکوائری کے حکم نے کچھ چیزیں واضح کردی ہیں:1. وزیر اعلی کسی قتل پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دے سکتا ہے2. وزیر اعلی نی اس سے قبل سینکڑوں شہریوں کے قتل پر اس اختیار کا استعمال نہیں کیا3. وزیراعلی بلوچستان کے نزدیک عام شہری اور ایک اثر و رسوخ رکھنے والے شخص کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے چنانچہ انہوں نے وزارت اعلی کی کرسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامتے ہوئے عام شہریوں کے قتل پر صحیح رد عمل ظاہر نہیں کیا بلکہ ان کی مجرمانہ خاموشی شیعہ نسل کشی میں کردار ادا کررہی ہے۔جب کسی ملک کے حکام ایسے ہوں تو وہاں بھیڑیئے آزاد ہونگے، قاتل آبرومند ہونگے، چور کی پذیرائی ہوگی اور عزت داروں کی سرعام بےعزتی ہوگی؛ اور جب حکام ایسے ہوں تو مجرمین اور قاتلین صرف شیعہ افراد کے قتل پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ سیاسی قائدین کو بھی ماریں گے اور کیا معلوم کہ مستقبل میں یہی حکام بھی ان کی دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنیں گے؟ کیا دوسروں کی حفاظت پر مأمور حکام اپنے فرائض منصبی پر عمل نہ کرکے اپنے مستقبل کے قاتلوں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہے؟
.......
/110