17 ستمبر 2010 - 19:30

ساڑھے تین سال سے بند ہونے کی بنا پر افغانستان کے راستے پشاور جانے والے شیعہ مسافرین طالبان دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے جن میں سے 12 شہید اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاراچنار ـ پشاور کی نام نہاد قومی شاہراہ گذشتہ ساڑھے تین سال سے بند ہونے کی بنا پر افغانستان کے راستے پشاور جانے والے شیعہ مسافرین طالبان دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بنے جن میں سے 12 شہید اور 3 زخمی ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں لجہ کے علاقے وژہ میں مسلح طالبان دہشت گردوں نے پاراچنار کے شیعہ مسافروں کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں آٹھ افراد موقع پر شہید جبکہ سات زخمی ہوگئے جنہیں افغانستان کے صوبے پکتیا کے اسپتالوں میں داخل کردیا گیا۔ سات زخمیوں میں سے 4 زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں چل بسے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق کرم ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی ساجد طوری نے کہا ہے کہ حکومت کرم ایجنسی پشاور میں شاہراہ محفوظ بنانے اور آمد و رفت کے لئے کھولنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے۔  یادرہے کہ جھوٹے وعدوں اور بے دھڑک جھوٹ بولنے سے عالمی شہرت پانے والے وزیر داخلہ رحمن ملک نے درجنوں بار کہا ہے کہ حکومت پاراچنار ـ پشاور شاہراہ کھول دے گی مگر یہ شاہراہ جس کو قومی شاہراہ کہا جاتا ہے ـ طالبان دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے اور کبھی نیم فوجی دستوں کی پناہ میں کوئی قافلہ اس راستے سے گذرنا بھی چاہے تو اس کو دہشت گردوں کی کاروائی کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ آج تک کئی بار نیم فوجیوں کی حفاظت میں ہوتے ہوئے بھی کئی شیعہ افراد کو اس شاہراہ میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور سرکاری دستے خاموش تماشائی ہی نہیں طالبان کے حامی نظر آئے ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ ایک ایٹمی ملک، جس کے پاس تیرہ لاکھ کے قریب فوج ہے اور 70 کے قریب ایجنسیاں، طالبان دہشت گردوں کے سامنے اتنے بے دست و پا ہیں کہ ان کا زور ٹوٹ جانے کے حوالے سے متعدد سرکاری اعلانات کے باوجود قومی شاہراہیں طالبان شاہراہوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور طالبان کی من مانیوں کے سامنے اتنی ساری فوج اور اتنی ساری ایجنسیاں بے بس ہیں! اور اگر بے بس نہیں تو پھر ایک غیرجانبدار مبصر کی حیثیت سے انہیں طالبان کا حصہ ہی سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ طالبان کی من مانیاں ان کی حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام قبائلی ایجنسیاں مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت پر اتری ہوئی ہیں اور ان ایجنسیوں میں دن کو اگر سرکار پاکستان کی حکومت ہے تو رات کو طالبان دہشت گردوں کی حکمرانی ہوتی ہے سوائے پاراچنار کے جہاں کے عوام نے اتنے ساری مسائل و مصائب جھیلنے اور حکومت کی بے رخیاں اور ہزاروں کی تعداد میں شہداء اور زخمیوں، ناکہ بندیوں، اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی کمی اور دسیوں دشواریوں اور ناہمواریوں کو برداشت کرنے کے باوجود ابھی تک پاکستان کی وفاداری میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا ہے اور سرکار پاکستان دہشت گردوں سے مل کر اس علاقے کے عوام کو محب وطن ہونے کی سزا دے رہی ہے جس کے اسباب و محرکات اسلام آباد میں بیٹھے واشنگٹن کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنے اور کرانے والوں کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پاراچنار کی شیعہ اور سنی قبائل کے درمیان حال ہی میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے جس کو طالبان دہشت گردوں نے دو مرتبہ پامال کردیا ہے۔اس سے قبل انھوں نے واپڈا کے 60 اہلکار اغوا کرکے اس علاقے میں امن کے امکانات تباہ کرنے کی کوشش کی تهی اور اب نہتے شیعہ مسافروں کو افغانستان میں جاکر نشانہ بنایا ہے جس سے مذکورہ معاہدے کا اعتبار ختم ہوکر رہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110