17 ستمبر 2010 - 19:30

محسن اسلام حضرت ابوطالب علیہ السلام کے بارے میں مختلف قسم کی دلیلیں / مقام افسوس ہے کہ ہمیں رسول اللہ (ص) کے حامی و سرپرست اور اپنی تمام ہستی حضور پر قربان کرنے والی شخصیت کے ایمان کی دلیلیں پیش کرنی پڑرہی ہیں۔

علامہ ابوالفدا کہتے ہیں کہ ابوطالب (ع) کے بعض اشعار(جن کا ترجمہ درج ذیل ہے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انھوں نے آنحضرت کی رسالت کا صدق دل سے اقرار کیاتھا۔ترجمہ اشعار ابیطالب(ع)"اے محمد (ص) تم نے مجھے دین اسلام کی طرف بلایا اور میں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت تم صادق القول راست باز اور امانت دار ہو اور بیشک مجھے یقین ہوگیا کہ دین محمدی تمام دنیا کے دینوں سے بہتر ہے خدا کی قسم جبتک میں زندہ ہوں قریش میں سے کوی شخص تمہارا کچھ نہیں کرسکتا".........ابو طالب ایمانِ کل کے والد ہیں تو ان کے ایمان پر شک کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی کچھ لوگوں نے اسے موضوعِ بحث بنا لیا.ابو طالب ایمانِ کل کے والد ہیں تو ان کے ایمان پر شک کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی پھر بھی کچھ لوگوں نے اسے موضوعِ بحث بنا لیا یہی تو وجہ ہے کہ لوگوں نے اسے موضوع بحث بنایا ہے.معصوم کے والدین کبھی کافر نہیں ہو سکتے نہ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین کافر ہیں اور نہ حضرت علی علیہ اسلام کے جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ دین کے اصولوں سے ہی واقف نہیں کوئی معصوم کسی کافر کے گھر نہیں آسکتا۔۔۔۔۔اور نہ کبھی کافر کے گھر کھانا کھاتا ہے۔۔۔۔۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو طالب کے گھر میں گوشت بھی کھایا۔۔۔۔۔۔جبکہ اس کے علاوہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں بتاتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کافر کے گھر گوشت کھایا ہو۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ اس پر خدا کا نام لے کر ذبح نہیں کیا جاتا اس لیے وہ گوشت کھانا حرام تھا۔۔۔۔۔۔۔۔جبکہ حضرت آدم علیہ اسلام کے وقت سے ہی وہ گوشت حرام ہے جس پر اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو۔ یہ صرف شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہی نہیں۔........ایک ناقابل تردید دلیلسب ھی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ:جناب ابو طالب علیہ السلام کی زوجہ اور جناب علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ جنابہ فاطمہ بنت اسد ابتدا میں ہی اپنے ایمان کو ظاہر کر چکی تھیں۔ وہ جناب ابوطالب علیہ السلام کے یوم وفات تک انکے گھر میں انکی زوجہ کی حیثیت سے قیام پذیر رہیں کیا ایک مومنہ ـــــ ایک مشرک کے ساتھ بحیثت زوجہ اس کے گھر میں رہ سکتی ہےیہ ہے وہ دلیل جس کا کوئی جواب نہیںوالسلام من تبع الہدیٰ----------سب سے اہم دلیل قرآن ہے جس نے گواہی دی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو اس نے ایک مؤمن خاندان میں سے مبعوث فرمایا اور اس جاهلیت زده معاشرے میں ان گنے چنے مؤمنین پر احسان فرمایا. ارشاد ربانی ہے:لقد من الله علی المؤمنین اذ بعث فیهم رسولا من انفسهم یتلو علیهم آیاته و یزکیهم ویعلمهم الکتاب و الحکمة و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین (آل عمران آیت 164)ترجمہ: خداوند متعال نے مؤمنین پر احسان فرمایا که ان ہی میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرمایا جو ان کے لئے الله کی نشانیان آشکار کردے اور ان کے باطن کی تهذیب و تطهیر کردے اور انهیں قوانین شریعت کی کتاب کی تعلیم دے اور ایسی بصیرت کا شعله ان کی اندر بهڑکادے که حقائق کا چهره ان کےلئےعیاں ہوجائے۔ گو که اس سے قبل واضح گمراہی میں ہی کیوں نہ رہے ہوں.اس آیت مین تاکید اس بات پر ہوئی ہے که وہاں مؤمنین تهے جن مین سی پیغمبر کو چن لیا گیا اور یه بهی سب جانتے ہیں که بنو هاشم کے سوا ارد گرد کفر وشرک کا حال یه تها که نبی اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے تین سال تک خفیہ دعوت کا سلسلہ جاری رکها چنانچہ اہل مکہ کے کفر و شرک میں کوئی بحث ہی نہیں ہے. یقینی امر ہے که جن کے درمیان میں سے آپ صلی الله علیه وآله وسلم اٹهائے گئے وه وہی لوگ ہونگے جو یا تو آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے کفیل اور سرپرست تهے یا حامی اور رشته دار تهے. هم دیکهتے ہیں که شعب ابی طالب میں بنوهاشم کے افراد ہی موجود تهے جن کی سرپرستی حضرت ابو طالب علیه السلام کررہے تهے اور بنو هاشم میں سے صرف ابولهب مشرکین کی ہمراه تها جبکہ بہت سے دوسرے بلند بانگ دعویدار یا تو مشرکین ہی کی صفوں میں نظر آتے ہیں یا پهر "تقیہ" کی حالت مین زندگی بسر کررہے تھے.

البته تقیہ میں بهی کوئی حرف نهیں ہے جو رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم نے تین سال تک خفیه دعوت کے دوران برقرار رکها گو کہ بعد میں بعض مدعیان دینداری نے تقیہ کو بهی اہل تشیع کے لئے سبب طعن قرار دیا.تمام علمائے شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علماء مثلاً شارح نہج البلاغہ”ابن ابی الحدید“نے شرح نہج البلاغہ میں اور”قسطلانی“ نے ارشاد الساری میں اور” زینی دحلان“ نے سیرة الحلبی کی حاشئے میں حضرت ابوطالب علیہ السلام کو مؤمنین اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے۔ اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیں اس موضوع کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ جن کا مطالعہ کرکے ہم گہرے تعجب اور حیرت میں ڈوب جاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام پر ایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے جا تہمتیں کیوں لگائی گئی ہیں؟جو شخص اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دفاع کیا کرتا تھا، خطرات کے مواقع پر اپنے فرزند کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وجود مقدس کی حفاظت کے لئے ڈھال بنادیا کرتا تھا!! اس پر یہ تہمت کیونکر لگائی جاسکتی ہے؟یہی سبب ہے کہ غائرانہ تحقیق کرنے والوں نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام کے خلاف، مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ سے ہے جو ” شجرہٴ خبیثہ“ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت و حسد کی بنا پر پیدا ہوئی ہے۔کیونکہ یہ صرف حضرت ابوطالب علیہ السلام کی ذات ہی نہیں تھی کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ سے ایسے حملے کی زد میں آئی ہو ،بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے قربت رکھتا ہے ایسے ناجو انمردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت ابوطالب علیہ السلام کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے وہ حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم پیشوائے اسلام کے باپ تھے۔.........ایمان ابو طالب کی آٹھ دلیلیںہم یھاں پر ایمان ابوطالب علیہ السلام کی گواہی د ینے والے ان بہت سے دلائل میں سے کچھ دلائل مختصر طور پر فھرست وار بیان کرتے ہیں: تفصیلات کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جو اسی موضوع پر لکہی گئی ہیں۔دلیل اول : حضرت ابوطالب علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے پہلے اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا مقام نبوت تک پہنچے گا کیونکہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ جس سفر میں حضرت ابوطالب علیہ السلام قریش کے قافلے کے ہمراہ شام گئے تھے وہ اپنے بارہ سالہ بھتیجے "محمد" کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ اس سفر میں انہوں نے آپ سے بہت سی کرامات مشاہدہ کیں۔ان میں ایک واقعہ یہ ہے کہ جوں ہی قافلہ کتب عہدین کے بڑے عالم اور قدیم عرصے سے ایک گرجے میں مشغول عبادت”بحیرا“ نامی مسیحی راہب – جس کی زیارت کے لئے تجارتی قافلے رک جاتے تھے - کے قریب سے گذرا، تو راہب کی نظریں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جم کررہ گئیں۔بحیرانے تھوڑی دیر کے لئے حیران و ششدر رہنے اور گہری اور پُر معنی نظروں سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ بچہ تم میں سے کس سے تعلق رکھتا ہے؟ لوگوں نے ابوطالب علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ بحیرا نے کہا اس بچے کے ماں باپ زنده نھیں ہونے چاہئیں. تو حضرت ابوطالب علیه السلام نے کہا جی ہاں ان کے والدین کا انتقال ہوا ہے اور اب میں ان کے چچا کی حیثیت سے ان کا کفیل ہوں. ” بحیرا“ نے کہا : اس بچے کا مستقبل بہت درخشاں ہے، یہ وہی پیغمبر ہے جس کی نبوت و رسالت کی آسمانی کتابوں نے خبردی ہے اور میں نے اس کی تمام خصوصیات کتابوں میں پڑھی ہیں ۔ابوطالب علیہ السلام اس واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت اور معنویت کو سمجھ چکے تھے ۔دوسری دلیل:اہل سنت کے عالم شھرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء کی نقل کے مطابق: ”ایک سال آسمان مکہ نے اپنی برکت اہل مکہ سے روک لی اور شدید قحط سالی نے لوگوں کو گہیر لیا تو ابوطالب علیہ السلام نے حکم دیا کہ ان کے بہتیجے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو – جو ابھی شیر خوار ہی تھے لایا جائے-، جب بچے کو کپڑے میں لپٹا ہؤا لایا گیا اور انہیں دے دیا گیا تو وہ اسے لے کر خانہٴ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع و زاری کی حالت میں اس طفل شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور تین مرتبہ کہا:، پروردگارا، اس بچے کے حق کا واسطہ ہم پر برکت والی بارش نازل فرما ۔کچھ زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ افق کے کنارے سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہؤا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا کہ یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجد الحرام ہی ویران نہ ہوجائے “۔اس کے بعد شھرستانی لکھتا ہے کہ یہی واقعہ جو ابوطالب علیہ السلام کی اپنے بھتیجے کے بچپن سے اس کی نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ان کے پیغمبر پر ایمان رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور ابوطالب علیہ السلام نے بعد میں اشعار ذیل اسی واقعے کی مناسبت سے کہے تھے :

و ابیضُ یستسقی الغمام بوجہہ ثمال الیتامی عصمة الارامل

” وہ ایسا روشن چہرے والا ہے کہ بادل اس کی خاطر سے بارش برساتے ہیں وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “

یلوذ بہ الھلاک من آل ہاشم فہم عندہ فی نعمة و فواضل

” بنی ہاشم میں سے جو چل بسے ہیں وہ اسی سے پناہ لیتے ہیں اور اسی کے صدقے نعمتوں اور احسانات سے بھرہ مند ہوتے ہیں ،،

و میزان عدلہ یخیس شعیرة ووزان صدق وزنہ غیر ھائل

” وہ ایک ایسی میزان عدالت ہے کہ جو ایک جَو برابر بھی ادہر ادہر نہیں ہوتا اور درست کاموں کا ایسا وزن کرنے والا ہے کہ جس کے وزن کرنے میں کسی شک و شبہ کا خوف نہیں ہے “ قحط سالی کے وقت قریش کا ابوطالب علیہ السلام کی طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب علیہ السلام کا خدا کو آنحضرت کے حق کا واسطہ دینا شھرستانی کے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظیم مورخین نے بھی نقل کیا ہے ۔“تیسری دلیل:اشعار ابوطالب علیہ السلام زندہ گواہمشھور اسلامی کتابوں میں ابوطالب علیہ السلام کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں ان میں سے کچھ اشعار ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں :

والله ان یصلوالیک بجمعھم حتی اوسد فی التراب دفینا

”اے میرے بھتیجے خدا کی قسم جب تک ابوطالب علیہ السلام خاک میں نہ سو یا ہو اور لحد کو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے“

فاصدع بامرک ما علیک غضاضتہ و ابشر بذاک و قرمنک عیونا