رپورٹ کے مطابق دستی بموں کے دھماکوں اور شدید فائرنگ سے سٹی کورٹ میں بھگدڑ مچ گئی اور فائرنگ سے دہشت گردوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا جبکہ فرار ہونے والا ایک دہشتگرد دستی بم پھٹنے سے ہلاک ہوگیا اور دہشتگرد دو ملزمان زخمی حالت میں فرار ہوگئے۔ سٹی کورٹ آئے ہوئے 3 عام شہری بھی زخمی ہوگئے۔
بعد فرار ہونے والے کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے 24جنوری2010ء کو گرفتار کیا تھا۔
ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزمان کو سب سے پہلے تیموریہ تھانے کی حدود میں ہونے والی بینک ڈکیتی کے بعد کیمرے سے ملنے والی تصاویر میں شناخت کیا گیا تھا اور ملزمان کے تمام مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔
تاہم ان دہشت گردوں کو فی الحال دہشت گردی کے کسی کیس میں مقدمے کا سامنا نہیں تھا کیونکہ راجہ عمر خطاب کے مطابق ہفتے کو انهین کار چوری کے مقدمے میں مقامی عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا! اور جیل انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کو پیشی پر لائے جانے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی!
ایس ایس پی نے بتایا کہ ہلاک و فرار ہونے والے ملزمان 8،9اور10محرم الحرام کو ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے اور ان کا تعلق کالعدم جند الله گروپ سے ہے اور ان کی تنظیم کا رابطہ براہ راست القاعدہ سے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کا کمانڈر القاعدہ کا حمزہ جوفی عرف حاجی ممتاز ہے اور ان کی تنظیم بینک ڈکیتیوں سے حاصل ہونے والی رقم وزیرستان بھیجتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے گروہ کے ماسٹر مائنڈ حیدر بھائی اور رضا بھائی نامی دہشت گرد ہیں جو تاحال گرفتار نہیں کیے جاسکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جتنی محنت کے بعد ان دہشت گردوں کو گرفتار کیا، جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث اتنے خطرناک ملزمان باآسانی فرار ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ عاشورہ دھماکے کے الزام میں جب ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا تو بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جارہا تھا کہ مذکورہ ملزمان اصل نہیں ہیں تاہم سٹی کورٹ سے ان کے ساتھیوں کی جانب سے حملہ کرکے انھیں چھڑا لینے کے واقعے سے ثابت ہوگیا کہ ملزمان کتنے خطرناک تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوشش شروع کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سینٹرل کی عدالت میں پیشی پر لائے جانے والے کالعدم جند الله کے دہشت گردوں شاہ مراد، وزیر، شکیب فاروقی اور مرتضیٰ کو پیشی کے بعد عدالت کے باہر مسجد بلال کے سامنے بٹھایا گیا تھا کہ اس دوران مسجد کے راستے سے حملہ آور سٹی کورٹ میں داخل ہوئے اور 3دستی بموں سے پولیس پر حملہ کردیااور فائرنگ شروع کردی۔
پولیس اہلکاروں نے ملزمان پر جوابی فائرنگ کی تاہم ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو چھڑا کر جوڑیا بازار کی جانب فرار ہوگئے۔
ملزمان کی فائرنگ سے کورٹ پولیس کا اہلکار محمد شہباز ولد غلام رسول جاں بحق ہوگیا جبکہ سٹی کورٹ آئے ہوئے 3افراد سرفراز حسین، عثمان اور عبدالکلام زخمی ہوگئے۔
ملزمان کے فرار ہونے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے سٹی کورٹ کے اطراف میں سیکیورٹی اقدامات سخت کردیئے اور جوڑیا بازار جانے والے راستے کا محاصرہ کرلیا۔
پولیس نے ملزمان کا تعاقب شروع کردیا اس دوران رسالہ تھانے کی حدود محمدی مسجد نواب بیکری کے قریب فرار ہونے والے ملزمان اور پولیس کے درمیان ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا۔ اس دوران عدالت سے فرار ہونے والے ایک ملزم شاہ مراد نے پولیس پر دستی بم سے حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم بم اس کے ہاتھوں میں ہی پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ملزم شاہ مراد موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دو ملزمان زخمی حالت میں فرارہوئے ہیں جن کی تلاش کے لیے شہر بھر کے اسپتالوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ساوٴتھ اقبال محمود نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ جیل انتظامیہ نے اتنے خطرناک ملزمان کے بارے میں اطلاع کیوں نہیں دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے چند ساتھی پہلے سے ہی سٹی کورٹ کے اندر موجود تھے۔
پولیس کا خیال ہے کہ ملزمان کی تعداد5تھی۔
........
/110


