کرغیزستان میں نسلی فسادات کے ساتھ ہی انسانی المیے کا بھی آغاز ہوگیا۔ گلیوں اور سڑکوں پر کہیں لاشیں ہیں تو کہیں زخمی مدد کیلئے پکارتے اور تکلیف سے کراہتے نظر آتے ہیں۔ زخمیوں کو کب اور کیسے اسپتال منتقل کیا جائے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ انسانی ہمدری کے سہارے کچھ لوگ اسپتال پہنچ بھی رہے ہیں تو وہاں نئے مسائل ان کے منتظر ہوتے ہیں۔ متاثرہ علاقے اوش کے اسپتالوں میں زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس لئے اسپتال میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ اس مسئلہ کا حل مسجد کو اسپتال میں تبدیل کرنے کی شکل میں نکالا گیا ہے اور سورا تاش نامی علاقے کی مسجد میں اسپتال قائم کردیا گیا۔ جہاں تشدد کے شکار افراد سے لے کر ذیابیطس تک کے مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے۔آلات جراحی کو جراثیم سے پاک کرنے کیلئے کوئی اینٹی سیپٹک نہیں ہے۔ اس لئے وڈکا کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پاوٴڈرڈ پلاسٹر پگھلا کر ٹوٹی پسلیاں جوڑنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔اوش کے اسپتالوں میں دواوٴں سمیت ہرچیز کی قلت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے امدادی طیارے اوش ائیر پورٹ پہنچ چکے ہیں۔ مزید بارہ طیارے چند دن میں اوش پہنچ جائیں گے۔لوٹ مار کے خطرے کے پیش نظر سخت حفاظتی انتظامات میں ٹرکوں میں سامان اوش منتقل کیا گیا۔ اوش شہر میں شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم کے باوجود امن اور امان کی صورتحال اب تک بے قابو ہے۔ پرتشدد صورتحال کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد افراد ازبکستان پہنچ گئے ہیں۔ ازبک حکومت نے مزید پناہ گزینوں کی آمد روکنے کیلئے سرحد بند کردی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کرغزستان میں جاری نسلی فسادات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ فریقین اختلافات کا پر امن حل نکالیں۔کرغیزستان میں فسادات پر ابھی تک قابو نہیں پایا جاسکا، ایک لاکھ سے زائد افراد نے ازبکستان میں پناہ لے لی۔ ازبک حکومت نے سرحد بند کردی۔ کرغزستان کے جنوبی شہر اوش اور اس کے گردونواح میں ازبک اور کرغز آبادی کے درمیان پانچ دن سے جاری نسلی فسادات میں اب تک ایک سو اڑتیس افراد ہلاک اور سولہ سو زخمی ہوچکے ہیں۔ گلی محلوں کا منظر یہ ہے کہ کرغز باشندے ازبکوں پر فائرنگ کررہے ہیں جبکہ جگہ جگہ ازبک باشندے چھریاں اور کلہاڑیاں اٹھائے گروہوں کی شکل میں جمع ہیں۔ شہر میں کرفیو نافذ ہے اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے حکم کے باوجود ہر دوسرے مکان اور عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے اور جگہ جگہ لاشیں پڑی ہیں۔ مشتعل افراد مکانوں اور دکانوں کو لوٹنے کے بعد انہیں آگ لگارہے ہیں۔دوسری جانب ایک لاکھ سے زائد افراد پناہ لینے کے لیے ازبکستان پہنچ گئے ہیں۔ ازبک حکومت نے مزید پناہ گزینوں کی آمد روکنے کیلئے سرحد بند کرنے کا حکم دیدیا۔ جس کی وجہ سے ہزاروں افراد دونوں ملکوں کی سرحد پر ازبکستان میں داخلے کا انتظار کررہے ہیں۔ ازبکستان کے نائب وزیراعظم نے پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے لئے اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاک فضائیہ کا طیارہ کرغزستان سے ایک سو چھتیس پاکستانیوں کو لے کر وطن واپس پہنچ گیا۔ پاک فضائیہ کا پہلا سی ون تھرٹی طیارہ کرغزستان سے دو سو انہتر میں سے ایک سو چھتیس محصور پاکستانیوں کو وطن واپس لے آیا جن میں بیشتر تعداد طلباء کی ہے۔دوسرا طیارہ آج شام چھ بجے تک کرغزستان میں ہلاک ہونے والے علی رضا اور دیگر پاکستانیوں کو لے کر وطن پہنچے گا۔
.........
/110