17 اگست 2010 - 19:30

افغانستان میں قیام امن کیلئے جاری تین روزہ امن جرگے کے قریب خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیاتاہم دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے دھماکے کے بعدا فغان صدر حامد کرزئی جرگے سے چلے گئے۔جرگہ

 جرگہ سے افغان صدر حامد کرزئی کی تقریر کے دوران جرگے کے قریب ہی دو راکٹ آکر گرے ۔ جس پر حامد کرزئی نے کہاکہ ایسی کوششوں سے جرگہ متاثرنہیں ہوگا۔ لیکن جب جرگے کے قریب خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑالیاتو افغان صدر امن جرگے سے واپس چلے گئے ۔

 طالبان اورحزب اسلامی نے امن جرگے کو مسترد کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا ہے جبکہ طالبان نے جرگے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ قبل ازیں اپنے خطاب میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے مسلح مخالف گروپوں سے درخواست کی کہ وہ عسکریت پسندی ترک کر کے امن جرگے میں شامل ہو جائیں۔ قومی مشاورتی امن جرگہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے کہا کہ میں اس فورم کے ذریعے حکومت سے ناراض تمام افغانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آجائیں اور پھر سے معمول کے مطابق زندگی گزارے اور امن جرگے میں شامل ہو جائیں۔

 افغان صدر نے کہا کہ ہماری آواز امن کی آواز ہے اور یہ امن اس ملک کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے ہے۔انہوں نے کہا کہ میں طالبان اور دیگر گروپوں سے کہتا ہو ں کہ وہ ملک کو تباہ کرنے اور اس دھرتی کے بیٹوں کو مارنا بند کریں۔ افغان صدر نے امن جرگے کے شرکاء پر زور دیا کہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے دوستانہ حل نکالیں اور ملک کے پائیدار امن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ذرائع اور وسائل پر تبادلہ خیال کریں یہ سوچیں کہ قومی مصلحت تک کیسے پہنچ سکتے ہیں۔

 ہمیں لوگوں کومسائل سے نکالنا اور ملک میں طویل المیعاد امن کو یقینی بنانا ہو گا۔ امن جرگے میں 300خواتین سمیت 16سو افراد شرکت کر رہے ہیں،جن میں قبائلی عمائدین‘پارلیمنٹیرینز ‘سیاسی وسماجی شخصیات اور دیگر سرکاری حکام شامل ہیں- جرگے میں افغانستان میں مفاہمتی عمل کے آغاز اور پائیدار قیام امن کیلئے کوششوں پر غور کیا جارہا ہے