وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ لاہور میں ہونے والی دہشت گردی میں لشکر جھنگوی ملوث ہے جبکہ کراچی میں بڑے تاجروں کو ہراساں کرنے والوں سے متعلق معلومات حاصل کر لی گئی ہیں ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں طالبائزیشن سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے اور صحابہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت 29 تنظیمیں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
میریٹ ہوٹل، سری لنکن ٹیم اورجی ایچ کیو پر حملوں سمیت دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں میں لشکر جھنگوی ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر جنوبی پنجاب میں فوجی آپریشن نہیں کیا جائے گا تاہم پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ وہ مشتبہ گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کرے اور اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے ۔
رحمان ملک نے مزید بتایا کہ کراچی میں بڑے تاجروں کو حراساں کرنے والے گروپوں سے متعلق معلومات حاصل کر لی گئی ہیں ، یہ معلومات شر پسند عناصر کی جانب سے کئے گئے دھمکی آمیز فون کی ریکارڈنگ کے ذریعے حاصل کی گئیں ہیں جن میں وہ اغواءکی وارداتوں کے بعد تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں ۔انہوںنے مزید بتایا کہ ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایف سی کو ہدایت کر دی گئی ہے ۔
ان کاکہنا تھا کہ معروف صحافی طلعت حسین اور دیگر پاکستانیوں کی رہائی کے لئے انٹر پول کے ساتھ رابطہ کیا گیا تھا۔ سیکر ٹری جنرل انٹر پول نے پاکستانیوں کی رہائی میں ذاتی دلچسپی لی ہے ۔
یادرہے پاکستان کے وزیرداخلہ ایسے عالم میں طالبان کے طاقتورہونے کی بات کررہےہیں کہ گذشتہ برس پاکستانی انٹلجنس کے ایک اعلی عھدیدار نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کی ایماپرطالبان کو جنم دیاہے اور اس میں رحمن ملک اور نصیراللہ بابر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/152