17 اگست 2010 - 19:30

فیوژن سینٹرز کے قیام سے امریکہ پاکستانی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں پر نظر رکھ سکے گا۔ پشاور کے مرکز نے کام شروع کردیا۔ کوئٹہ کا معاملہ تعلقات کا امتحان ثابت ہوگا ۔ واشنگٹن پوسٹ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پشاور کے بعد امریکہ نے کوئٹہ میں بھی جاسوسی مرکز کے قیام کے لئے دباؤ بڑھا دیا۔ تعاون نہ ملنے کی صورت میں پاکستان پر بمباری اور زمینی حملوں کے آپشن پر غور غور کیا جارہا ہے۔ اخبار کی مطابق "فیوژن سینٹر" کے قیام سے امریکہ شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فورسز کی کاروائیوں پر نظر رکھ سکے گا۔ پشاور کے مضافات میں قائم مرکز نے کام شروع کردیا ہے تا ہم کوئٹہ کا معاملہ دونوں ممالک کی درمیان تعلقات کا اصل امتحان ثابت ہوگا۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں شدت پسندوں کے حملے سے بچاؤ کے لئے فوجی کاروائی کے ساتھ ساتھ گہرے انٹیلی جنس روابط بھی ناگزیر ہیں۔
اوباما کے مشیر قومی سلامتی جنرل جیمز جونز اور ڈائریکٹر سی آئی اے لیون پینٹا یہی پیغام لے کر پاکستان آئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے اپنی حالیہ اشاعت میں امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فوج نے امریکہ پر کسی بھی ممکنہ کامیاب دہشت گردانہ حملے کی صورت میں پاکستانی طالبان کے خلاف یکطرفہ کاروائی کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے جس کے تحت فضائی اور میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی جارحیت کے امکانات پر بھی غور کیا جارہا ہے اور اس ضمن میں افغانستان کے اندر موجود اسپیشل امریکی آپریشن یونٹ کو استعمال کیا جائے گا۔
آرٹیکل میں امریکی فوج کے سینئر حکام ـ جن کے نام صیغہ راز میں رکھے گئے ہیں ـ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جوابی کاروائی کے لئے منصوبہ بندی نیویارک ٹائم اسکوائر واقعے میں فیصل شہزاد اور پاکستانی طالبان عناصر کے ملوث ہونے کے بعد کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ اوباما اس بات پر قائل ہوگئے ہیں کہ ڈرون حملے ناکافی ہیں اور یہ کہ مستقبل میں شدت پسندوں کے حملے سے بچاؤ کے لئے فوجی کاروائی کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس روابط بھی ناگزیر ہیں؛ اس مقصد کے تحت حالیہ چند ماہ کے دوران پشاور کے مضافات میں ایک مشترکہ انٹیلی جنس سینٹر بنالیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں بھی ایسا مرکز قائم کرنے کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک مزکز کے قیام کے لئے مناسب جگہ تلاش کررہے ہیں تا ہم ویزوں کے اجرا میں تأخیر اور پاکستانی تحفظات رکاوٹ بن رہے ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستانی حکام کی "روایتی سستی" بھی ایک مسئلہ ہے۔
اخبار کے مطابق جاسوسی کے ان مراکز کے قیام بشمول قبائلی علاقوں میں امریکی ڈروں طیاروں کی حاصل کردہ معلومات اور ویڈیوز سے پاکستانی فوج کے جاری آپریشن کو نہ صرف تقویت ملے گی بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر نظر بھی رکھ سکیں گے۔
مذکورہ فیوژن سینٹرز افغانستان میں سرگرم طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کا متبادل امریکی منصوبہ ہے جس کے تحت افغانستان اور پاکستان میں اہداف پر نظر رکھی جاتی ہے۔
ایک سینئر امریکی افسر کے مطابق پشاور میں قائم فیوژن سیل کے ذریعے پاکستانی فورسز کی کاروائیوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ان کا کیا دعوی ہے اور حقیقت میں وہ کیا کرتے ہیں۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی اسپیشل آپریشن ٹیم گذشتہ کئی برس سے سرحد پار کاروائیوں پر زور دیتی رہی ہے۔
ٹیم کا موقف ہے کہ ڈرون حملوں سے نہ تو قیدی ملتے ہیں نہ ہی آج تک کوئی قابل ذکر انٹیلی جنس معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
امریکی فوج کو پہلے پاکستانی سرزمین پر کاروائی کی اجازت نہیں تھی تا ہم سی آئی اے کو وائٹ ہاؤس نے مستثنی کررکھا ہے۔
ایک سینئر اہلکار کے مطابق حال ہی میں امریکی فورسز کو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری یا ملا عمر کی موجودگی کی ٹھوس اطلاعات پر یکطرفہ کاروائی کرسکتی ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسیاں گذشتہ سال سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر کاروائیوں میں مصروف ہیں، ڈرون حملوں کی تعداد بھی بڑھائی جاچکی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضائی حملے دہشت گردوں کے نئی حملوں کی صلاحیت تباہ کرنے کے لئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں تاہم اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متأثر ہوسکتے ہیں۔
...............
/110