اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام و المسلمین زمانی نے حوزہ علمیہ کے اعلی سطوح اور درس خارج کے اساتذہ کے بارہویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: دنیا کے 90 فیصد ممالک کی جامعات اور تحقیقی اور عوامی مراکز کے دروازے حوزات علمیہ کی جانب کھلے ہیں تا ہم 10 فیصد ممالک میں ہمیں اس سلسلے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا: تھوڑی سی کوشش سے تمام میدانوں میں اترا جاسکتا ہے اور کئی بار یہ بات تجربے سے ثابت ہوئی ہے کہ اگر مبلغین استقامت سے کام لیں تو ان کے لئے دروازے کھل جاتے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک کے حکام اور عوام ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جامعۃ الازہر قم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے کئی گنا زیادہ طلبہ کو تربیت دیتی ہےانھوں نے کہا: دیگر ادیان و مذاہب میں پرورش پانے والے طلبہ کی نسبت شیعہ حوزات میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بہت کم ہے اور دنیا میں شیعہ علماء کی تبلیغی سرگرمیاں صفر کے قریب ہیں۔ انھوں نے مصر کی جامعۃ الازہر کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس وقت جامعۃالازہر کے طلبہ کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے اور یہ تعداد حوزہ علمیہ قم میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تشیع کی خلاف یلغار عالمگیر ہوگئی ہےانھوں نے کہا: ہم ایسے حالات سے گذررہے ہیں کہ سارے کفار اور کفار کی حلیف قوتیں اپنے تمام وسائل اور اوازروں سے استفادہ کرتے ہوئے تشیع کے خلاف منظم منصوبوں پر علمدرآمد کررہے ہیں اور وہ مل کر حقیقی اسلام پر حملے کررہے ہیں۔ انھوں نے وہابیوں اور سلفیوں کے تشہیراتی منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان دشمنوں نے اپنی تمامتر کوششیں مذہب حقہ کے خلاف شبہات و اعتراضات گڑھنے میں صرف کررکھی ہیں جس کی وجہ سے شیعہ علماء کی ذمہ داریوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
.........../110