حدیث اصطلاحا اس روایت کو کہا جاتا ہے جو سرکار خاتم الانبیاء فخر الرسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول و فعل سے ثابت ہو یا آپ کے سامنے کسی اور کے اس عمل سے سامنے آ ئے جسے آپ نے منع نہ کیا ہو۔اول الذکر کو حدیث قولی، دوسری کو فعلی اور تیسری کو تقریری کہا جاتا ہے۔ حدیث کی اہمیت خود قرآن کریم نے یہ کہ کر واضح کر دی کہ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہ وَمَا نَھاكُمْ عَنْہ فَانتَہوا اور پھر دوسری جگہ قرآن قول رسول کو ہم پلہ ءوحی اسطرح قرار دیتا ہے کہ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْھوَى٠ انْ ھوَ الَّا وَحْيٌ يُوحَى(النجم آیہ تین اور چار)۔
اس لئے دین بلا مدد حدیث سمجھ میں نہیں آ سکتا اور اگر ہم سنت و حدیث کو ترک کر دیں تو تنہا قرآن نہ ہدایت دے گا اور نہ یہ خدا کو منظور ہوگا۔
جن لوگوں نے ہدایت کو حدیث کے بناء لینے کی کوشش ہے، در اصل انہوں نے خدا کے اس نظریہء ہدایت کی تکذیب کی ہے، جس میں بشر از خود ہدایت پانے کا اہل نہیں جب تک اسکی طرف مبعوث من اللہ انبیاء یہ پیغام نہ لائیں۔ اگر قرآن تنہا ہدایت کرنے کی طاقت رکھتا ہوتا تو اسوہء حسنہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ اسوہء حسنہ اور حدیث کی بابت میں یہ کہنا از حد ضروری ہے کہ ان کو اگر ہم قبول کرتے ہیں تو کاملا اور غیر مشروط قبول کرنا ہوگا، نا کہ اپنی مرضی کی جزیات لے کر مرضی کے متصادم حصوں کو ترک کر دیا جائے۔ دین حق یہی صدا دیتا سنائی دیتا ہے کہ يَا ايُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّت وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ انَّہ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (البقرہ آیت ٢٠٨) کہ اے وہ جو اب ایمان لا چکے ہو، اب اس میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطانی راستوں کی پیروی نہ کر، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
اسی لئے لازم ہے کہ دین کو قرآن، سنت اور حدیث کی روشنی میں پورا کا پورا تسلیم کر لیا جائے۔ سنت رسول میں جہاں احترام نظر آئے وہاں احترام کریں اور جس کو رحمت ِ دو عالم اپنی بزم سے اٹھاتے نظر آئیں، اس سے بیزارگی اختیار کی جائے۔ اگر ہم دشمنان رسول سے محبت اور محبوبان رسول سے بغض و عناد رکھیں تو ہمارا دین مشکوک ہو جاتا ہے، اور تمام عمل ہائے خیر کے ضائع ہوجانے کا ڈر ہے۔ آنحضور کی حیات مقدسہ کا تبلیغی عرصہ محض ٢٣ برس ہے، جس میں تکمیل کو پہنچائے گئے امور کو اگر بنظر غور دیکھیں تو یہ تمام از خود اک اعجاز سے کم نہیں ہے۔ عقل انسانی ان تمام معجزات کا احاطہ نہیں کر سکتی جو نبیء برحق سید المرسلین (ص) نے ظاہر فرمائے۔ کچھ کو صفحات تاریخ نے اپنے اندر محفوظ کیا تو کچھ راز رسالت کی صورت آج تک چشم عالم سے مستور ہیں۔
ان ظاہری معجزات میں اک معجزہ حدیث کساء بھی ہے، جس کو اسکی تمام تر جزءیات سمیت آج تک زمانہ سمجھ نہیں پایا۔ یہاں ہم حدیث کساء کا مختصر تعارف، اسکے ذریعہ قائم اصول، اور اسکے معجزانہ پہلو کا ایک خاکہ بمعہ اسناد از کتب معتبرہ پیش کریں گے۔
حدیث کساء یعنی چادر والی حدیث، اس حدیث کو کہا جاتا ہے، جو حدیث فعلی و قولی کی صورت میں وقوع پذیر ہوئی۔ مجھے اسکے صحیح مہ و سال کا تعین تو نہیں ہے، لیکن اس بات کو بصد وثوق کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدیث سورہ الاحزاب کے نزول کے عرصے میں آئی۔ یہ عرصہ ٥ تا ٦ ہجری کا ہے، جو بعض کے نزدیک ١٧ شوال ٥ ہجری سے شروع ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک ٥ ذی قعدہ ٥ ہجری۔ تاہم چونکہ غزوہ احزاب میں مشرکین نے مدینہ ء منورہ کو ایک عرصے تک محاصرے رکھا جس کی مدت ایک سے تین ماہ تک بتائی جاتی ہے، اسی لئے قرین عقل یہی ہے کہ حدیث کساء کا واقعہ جنگ احزاب کے بعد اور سورہ احزاب کے نزول کے دوران کہیں چھ ہجری کے اوائل میں وقوع پذیر ہوا۔
اجمالی خاکہ:
جابر بن عبد اللہ الانصاری راوی ہیں کہ ان سے سیدہ فاطمہ الزھراء نے روایت کیا کہ ایک دن رسول خدا (ص) ان کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے آج بدن میں کمزوری محسوس ہوتی ہے اس لئے مجھ یمنی چادر اوڑھا دو۔ جب رسولخدا یمینی چادر میں استراحت پذیر تھے تو شہزادہ سبز قبا سبط رسول امام حسن المجتبیٰ (ع) گھر میں آئے اور کہا کہ اماں جان آج آپ کے پاس سے ناناجان رسول اللہ کی خوشبو آتی ہے۔ جب بی بی معظمہ نے فرمایا کہ ہاں آپ کے نانا زیر کساء آرام فراما رہے ہیں تو امام حسن رسول اللہ کے پاس گئے اور اذن چاہا کہ میں بھی چادر میں آ جاؤں۔ رسول اللہ نے اجازت مرحمت کر دی تو پھر اسی طرح سے امام حسین علیہ السلام بھی آئے اور زیر کساء چلے آئے۔ پھر تھوڑی دیر بعد امام علی علیہ السلام بھی گھر آئے اور رسول اللہ کی خوشبو پاکر انکے پاس چادر میں چلے گئے۔حتٰی کہ سیدہ فرماتی ہیں کہ پھر میں بھی بابا جان کے ہمراہ زیر کساء چلی آئی۔ اس پر رسول اللہ نے چادر کا دامن اٹھایا اور آسمان کی طرف ہاتھ بلند کر کے فرمایا کہ باری تعالیٰ یہ تمام میرے اہل بیت ہیں، انکا خون میرا خون، اور انکا گوشت میرا گوشت ہے۔ یہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں اور جو ان سے محبت کرے، اس سے محبت کرتا ہوں اور جو ان سے جنگ کرے، ان سے میری جنگ ہے۔ جس سے ان کی صلح ہے، اس سے میری صلح ہے۔ ان پر تو صلوات و سلام اور رحمت بھیج اور ان سے رجس کو ہمیشہ کے لئے دور رکھ اور ایسا پاک رکھ جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
اس پر خدواند متعال نے ملائکہ و سکان سموات سے فرمایا کہ میں نے جو کچھ خلق کیا ہے، انہی پانچ زیر کساء اصحاب کی محبت میں خلق کیا ہے، جبریل امین نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو فرمایا کہ انکا تعارف یہ ہے کہ یہ اہل بیت النبوت اور رسالت کی کان ہیں جو کہ فاطمہ ہیں، ان کے بابا جان، ان کے شوہر اور فرزند ہیں۔ پھر جبرائیل امین (ع) امر الٰہی سے زمین کی طرف آئے اور اذن رسول مقبول پاکر زیر چادر داخل ہو گئے اور عرض کہ یا رسول اللہ، خدواند متعال آپ کو سلام بھیجتا ہے ، فرماتا ہے کہ کل کائینات اس نے آپ پانچوں کی محبت میں خلق فرمائی ہے، اور وحی فرمائی ہے کہ انَّمَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيُذْھبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ اھْلَ الْبَيْتِ وَيُطَھرَكُمْ تَطْھيرًا (سورہ احزاب آیت ٣٣) کہ اے اہل بیت اللہ کا تو ارادہ ہی یہی کہ تم سے ہر رجس کو سدا دور رکھے اور یوں پاک رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔ اس پر امام علی علیھا السلام نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ہماری چادر کے نیچے اس بیٹھک کی کیا فضیلت ہے، تو فرمایا کہ اے علی(ع) اگر اہل زمین میں کوئی ہماری اس روایت کا ذکر کرے گا تو اس محفل کو اللہ تعالیٰ کے ملائکہ حصار میں لے کر اہل محفل کے لیئے دعا و استغفار کریں گے اور اگر کسی کی مراد ہوگی تو وہ پوری ہوگی اور ہر طرح کا غم و الم دور ہوگا۔
فوائد و اصول حاصل ِ حدیث:
١- اصحاب کساء جن کو پنجتن پاک کہا جاتا ہے، منزل منیت پر رسول مقبول کے قریب ہیں اور ہم گوشت و پوست رسول ہیں۔
٢- حضور کریم (ص) کو پسند نہیں کہ ان کے ان قربت داروں کو کوئی تکلیف پہنچے، اسی لئے ان کے ساتھ لڑنے والے کو اپنے سے لڑنے والا قرار دیا، اور جو رسول اللہ سے لڑے اسکا دین مردود ٹھہرتا ہے۔
٣- رسول کریم (ص) کے بطن اطہر سے ایک خوشبو آتی تھی، جسے آپ (ص) کے اصحاب با وفا اور قرابت دار خوب پہنچاتے تھے۔
٤- یہ حدیث مبارکہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے سند رکھتی ہے کہ خود رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ اس کی تلاوت استجاب دعوات کا سبب اور غم و الم سے نجات کا باعث ہے، اس لئے اسے بکثرت پڑھنا چاہیئے۔
٥- اہل بیت علیھم السلام کی تخصیص کر دی گئی اور انکا احترام از شعار اسلامی قرار پا گیا۔
معجزانہ پہلو:
ایک مختصر انداز میں مندرجہ ذیل معجزاتی پہلو ملاحظہ ہوں؛
1- جبریل امین (ع) روز اس گھر آتے جاتے تھے، لیکن پانچوں انوا