بغداد پولیس ترجمان میجر جنرل "قاسم عطا" نے القاعدہ دہشت گرد تنظیم میں سرگرم سعودی شہریوں کی کرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں ملک فہد یونورسٹی میں القاعدہ دہشت گرد رہنماؤں کو تربیت دی جاتی ہے اور وہ عراق میں القاعدہ کے نئے سربراہ ابوبکر البغدادی کو گرفتار کرنے کی تلاش کررہے ہیں۔
عراق میں القاعدہ نے حال ہی میں ابوبکر البغدادی کو اپنا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔ بغداد پولیس کے ترجمان نے کہا کہ القاعدہ کو مالی بحران درپیش ہے اس لئے اس کے عناصر گاڑیوں کو چرا کر بم دھماکے کرارہے ہیں اور گاڑي چوری کرتے ہوئے القاعدہ کے دو رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک سعودی شہری ہے جس کا نام "عبد عزام صالح مسقر القحطانی" ہے جو سنان (نیزہ ) سعودی کے نام سے معروف ہےوہ 1979 میں پیدا ہوا اور ریاض کی ملک فہد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہے وہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد سعودی فوج میں شامل ہوا اور 2004 میں عراق میں وارد ہوا عراق میں اس نے القاعدہ کی سکیورٹی کا چارج سنبھال لیا.
ترجمان نے کہا کہ قحطانی کو ایک بار امریکی فوجیوں نے گرفتار کرکے آزاد کردیا تھا انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں القاعدہ رہنماؤں کو تربیت دی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ریاض میں ملک فہد یونیورسٹی اہم کردار ادا کررہی ہے۔