بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آپ کو یاد ہے کہ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کچھ مہینے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قسمت کا دن شروع ہو گیا ہے اور اس ملک کی معیشت دو ہفتوں میں تباہ ہو جائے گی؛ اور ہاں! وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا، تین احمق ـ ٹرمپ، ہیگستھ اور بیسینٹ ـ معیشت کو تباہ کر رہے تھے، لیکن ایران سے زیادہ امریکہ اور یورپ کی معیشت!
ٹرمپ حکومت کی احمقانہ جنگ نے جو کیا وہ تیل، گیس، پٹرول، ڈیزل اور کیمیاوی کھادوں کی قیمتوں کا دھماکہ تھا۔ پہلے اس نے یورپ کو، مشرق سے مغرب تک، افراتفری میں دھکیل دیا اور جرمنی کی مغرور چانسلر اور فرانس کے صدر کو "ہم نے خبط کیا" کہنے پر مجبور کر دیا۔
پھر اس نے امریکہ کو اقتصادی اور سیاسی افراتفری کے منہ میں دھکیل دیا۔ جنگوں کے خاتمے اور پٹرول کی قیمت دو ڈالر کرنے کے بارے میں، ٹرمپ کے انتخابی وعدے سب الٹے ہو گئے تھے۔ چنانچہ وہ اور اس کے ریپبلکن حامی، گذشتہ چار دہائیوں کی بدترین انتخابی شکست کے متحمل ہوئے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں کو ایک ساتھ کھو بیٹھے۔
لیکن ایران کے ساتھ جنگ کے منفی نتائج ختم ہونے میں نہيں آ رہے ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ نے کل اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ کا تجربہ کیا اور اب تک 3.2 ٹریلین (3200 ارب) ڈالر کی قدر کھو چکی ہے۔
اس سے پہلے، سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ کورونا وبا کے بعد مارکیٹ کے زوال کے دور میں تھی جس میں مارکیٹ کی قدر 3 (3000 ارب ڈالر) ٹریلین ڈالر سے زیادہ کم ہوئی تھی۔
یہ ایران کے خلاف آٹھ مہینوں کی امریکی جنگ میں امریکی اسٹاک مارکیٹ کی ہزار ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی کئی گراوٹوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کو ایران کے خلاف ٹرمپی جنگ کے اخراجات میں شامل نہیں کیا جاتا۔
ان بھاری مالی اور سیاسی نقصانات میں، صہیونی رجیم کے انتخابات میں نیتن یاہو کی بھاری شکست کو بھی شامل کرنا چاہئے، جس نے رجیم کو گہری سماجی اور سیاسی تقسیم میں دھکیل دیا ہے۔
جی ہاں، وہ جنگ جسے امریکہ میں احمقوں کی کابینہ اور اسرائیل میں دھوکے بازوں کی حکومت نے چند دن کا تفریحی سیر سپاٹا سمجھا تھا، اب بھی جنگ کی آگی بھڑکانے والے شرپسند اور جرائم پیشہ احمقوں سے تاوان وصول کر رہی ہے اور یہ ایرانی قوم کے مقدس دفاع اور باوقار مزاحمت و استقامت کا نتیجہ ہے۔
آبنائے ہرمز اب بھی کام کر رہا ہے اور امریکہ مجبور ہے کہ ایران کی نئی عالمی طاقت کو تسلیم کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی ایمانی، کالم نگار روزنامہ کیہان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ