اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روزنامہ فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس وقت ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں رکھتا۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا:ہمارا فی الحال ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہمیں جو کچھ چاہیے، وہ ہمیں مل رہا ہے۔
تاہم انہوں نے ایران پر حملے کے لیے امریکی فوج کی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: ’’ہم ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، لیکن ممکن ہے کہ ایسا کرنے کی کوئی وجہ موجود نہ ہو۔
ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وہ اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے بیانات دے چکے ہیں، لیکن بعد میں حملے کا حکم جاری کر دیا۔
اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ 40 روزہ جنگ شروع ہونے سے ایک روز قبل، یعنی 28 فروری 2026 کو، ٹرمپ نے جنگ میں شامل ہونے کے اپنے فیصلے کو غیر حتمی قرار دیا تھا، لیکن اگلے ہی روز انہوں نے حملے کا حکم دے دیا۔
اسی طرح جون 2025 میں بھی، جب ٹرمپ ایران پر حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت کا ذکر کر رہے تھے، وہ درحقیقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
یہ سابقہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران پر فوری حملے کا منصوبہ نہ ہونے سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فوجی آپشن ترک کر دیا گیا ہے۔ بعید نہیں کہ وہ اپنی بچکانہ سوچ کے تحت امریکی عوام کو گمراہ کرنے یا وسط مدتی انتخابات کے موقع پر نفسیاتی جنگ کا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔
آپ کا تبصرہ