3 نومبر 2026 - 08:13
ایرانی صدر: دشمن جنگ کے ذریعے ایران کو جھکانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دشمن جنگ مسلط کرکے ایران کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ایران دشمنوں کے جھوٹ اور ناجائز مطالبات کے سامنے پوری قوت سے ڈٹا رہے گا اور عوام کے تعاون سے ملک کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں پر قابو پایا جائے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو ملک کے گورنروں، بڑے شہروں کے میئرز اور صوبائی مراکز کے حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں رہبرِ معظم انقلاب نے حکومت کو بعض اختیارات بھی دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تاہم دشمن یہ سمجھ لیں کہ جنگ کے ذریعے ایران کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ان کے جھوٹ اور ناجائز مطالبات کے سامنے پوری قوت سے کھڑے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے عوام کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ان کے خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ دشمنوں کی جانب سے پیدا کردہ چیلنجز سے نکلنے کے لیے عوامی تعاون اور قومی یکجہتی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ موجودہ حالات میں توانائی کی کھپت کا بہتر انتظام اور بچت ناگزیر ہے، تاکہ پیداواری سرگرمیاں جاری رہیں اور مزدور بے روزگار نہ ہوں۔ انہوں نے گورنروں کو ہدایت کی کہ ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دے کر توانائی کی بچت اور پیداوار بڑھانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز حاصل کی جائیں۔

انہوں نے شمسی توانائی کے بجلی گھروں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بجلی پیدا کرنے والوں کو ان کی پیدا کردہ بجلی کی حقیقی قیمت ادا کی جانی چاہیے۔ ان کے بقول، قیمتوں کا انتظامی حکم کے ذریعے تعین کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوا۔

پزشکیان نے واضح کیا کہ پیداواری شعبے کی بجلی اور گیس منقطع نہیں ہونی چاہیے، چاہے اس کے لیے ان کے اپنے دفتر کی بجلی ہی کیوں نہ بند کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے کانفرنس ہالز، سوئمنگ پولز اور غیر مؤثر مراکز کو بند کرکے وہاں کی بجلی اور گیس صنعتوں کو فراہم کی جا سکتی ہے، تاکہ ملکی پیداوار کا سلسلہ جاری رہے۔

صدر پزشکیان نے عوام کے معاشی مسائل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ قبول نہیں کہ ملک کے بعض شہری اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کی درست نشاندہی کرکے ان کی مدد کو ترجیح دی جائے اور سرحدی و محروم صوبوں میں اشیائے ضروریہ تہران اور مرکزی صوبوں کے مقابلے میں کم قیمت پر فراہم کی جائیں۔ ضرورت پڑنے پر حکومت اس مقصد کے لیے سبسڈی بھی دے گی۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ مالی وسائل رکھنے والے افراد کی سبسڈی ختم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس رقم سے ضرورت مند طبقے کی زیادہ مدد کی جا سکے۔ سبسڈی کی تقسیم منصفانہ ہونی چاہیے اور زیادہ سرمایہ رکھنے والوں کو سرکاری سہولیات سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا کوئی جواز نہیں۔

پزشکیان نے کہا کہ ملک کی اصل طاقت عام عوام ہیں، نہ کہ کوئی مخصوص گروہ۔ محروم اور سرحدی علاقوں کے عوام نے ہمیشہ ملک اور نظام کا دفاع کیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مسائل حل کرے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی عوام اور ضرورت مند افراد پر خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوانین اور ضوابط کا مقصد عوام کے مسائل حل کرنا ہے، اگر کوئی قانون اس مقصد میں رکاوٹ بنے تو اس میں ترمیم کی جانی چاہیے۔

پزشکیان نے خسارے میں چلنے والی کمپنیوں اور کارخانوں کے انتظامی معاملات بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مؤثر منتظمین کو مراعات سے محروم کیا جانا چاہیے اور سفارش یا اثرورسوخ کے ذریعے نااہل افراد کو عہدوں پر تعینات کرنا ملک سے خیانت ہے۔

صدر نے کہا کہ دشمن ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تجارت اور لین دین میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور سرحدیں بند کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ان سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں میں متوازن ترقی یقینی بنانے کے لیے صوبوں کی آمدنی اور وسائل انہی علاقوں کی ترقی پر خرچ کیے جائیں گے، تاکہ محروم اور سرحدی صوبوں سے تہران اور مرکزی علاقوں کی جانب نقل مکانی کا رجحان کم ہو۔

پزشکیان نے کہا کہ اعلیٰ حکام کے درمیان ہم آہنگی اور عوام کے تعاون نے دشمنوں کو ایران کی ثابت قدمی پر حیران کر دیا ہے۔ حکومت کا مقصد اپنے ہی عوام سے محاذ آرائی کرنا نہیں، بلکہ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے گورنروں اور بڑے شہروں کے میئرز کو ہدایت کی کہ کامیاب، باصلاحیت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ ناکارہ منتظمین کی جگہ اہل اور باصلاحیت افراد کو تعینات کیا جائے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایران دشمنوں کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نکل سکتا ہے، تاہم اس کے لیے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ اگر عوام حکومت پر اعتماد کریں تو دشمنوں کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha