28 اکتوبر 2026 - 17:17

حجاب کو محض روزمرہ کا تنازع یا ایک سخت سماجی قانون سمجھنا اس کے وسیع تہذیبی پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ زینب خاتون شیریں کار کے مطابق، حجاب صرف لباس نہیں بلکہ شناخت کے تحفظ اور معاشرتی زندگی میں اخلاقی حدود برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران میں حجاب کئی برسوں سے ثقافتی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ اس مسئلے کو محض ایک فقہی حکم یا سخت سماجی قانون تک محدود کر دینا درست فہم کی راہ میں رکاوٹ ہے، کیونکہ حجاب ایک سادہ لباس سے بڑھ کر شناخت کے تحفظ کی حکمتِ عملی اور دو مختلف طرزِ فکر کے درمیان اختلاف کی علامت ہے۔

حجاب؛ کشش کا نظم یا پابندی؟

اسلامی فکر میں نجی اور عوامی زندگی کے دائرے الگ رکھنا معاشرے کی تعمیر کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت 53 میں دلوں کی پاکیزگی کا ذکر کرتے ہوئے حجاب کے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق، حجاب کا مقصد عورت کی سماجی شرکت محدود کرنا نہیں، بلکہ انسانی کشش کو اس طرح منظم کرنا ہے کہ معاشرتی ماحول میں عقل و شعور، مؤثر کارکردگی اور ترقی کو فروغ ملے۔

اس تصور کے تحت عوامی زندگی میں انسان کی پہچان اس کی انسانیت، مہارت اور فکر سے ہونی چاہیے، نہ کہ اس بات سے کہ وہ اپنی ظاہری نمائش کس حد تک کرتا ہے۔

عورت کے بارے میں مغربی تصور کی ناکامی

مضمون کے مطابق، جدید سرمایہ دارانہ نظام نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران حیا کو پسِ پشت ڈال کر اور ثقافتی رجحانات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھال کر انسانی خواہشات کو صارفیت کے فروغ کے لیے عوامی زندگی کا حصہ بنایا اور عورت کو جنسی کشش کی ایک شے بنا کر پیش کیا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ آج مغرب کی رسمی تقریبات میں مرد مکمل لباس پہنتے ہیں، جبکہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ بے پردگی کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔

مغرب کی نمایاں خواتین کی جانب سے کام کی جگہوں پر منظم استحصال کے بارے میں حالیہ انکشافات کو بھی مصنفہ اس طرزِ فکر کی ناکامی کی دلیل قرار دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، ان کے مطابق اسلام حجاب کے ذریعے معاشرتی ماحول کو محفوظ بنانا چاہتا ہے تاکہ افراد کی انسانی اور علمی صلاحیتیں پس منظر میں نہ چلی جائیں۔

ذرائع ابلاغ کے محاذ پر دفاع؛ مسلمان عورت کا تیسرا نمونہ

مضمون میں کہا گیا ہے کہ استعماری طاقتوں نے دو صدیوں سے زیادہ عرصے تک یہ تصور پھیلایا کہ عورت سائنسی اور سیاسی میدانوں میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے لیے اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہو۔ اسلامی انقلاب کے بعد ’’عورت کا تیسرا نمونہ‘‘ سامنے آنے سے اس سوچ کو چیلنج ملا۔

مصنفہ کے مطابق، مکمل حجاب کے ساتھ ایرانی مسلمان خواتین کی اولمپکس میں کامیابیوں اور اعلیٰ علمی اداروں کے انتظامی عہدوں پر ان کی موجودگی محض کھیل یا تعلیم کے میدان کی کامیابیاں نہیں، بلکہ ذرائع ابلاغ کے محاذ پر دفاع اور ثقافتی قوت کا اظہار بھی ہیں۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ عورت اپنی شناخت اور حیا کو مغربی معیار کے مطابق بدلے بغیر بھی سماجی زندگی کے اعلیٰ ترین درجوں پر مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس موضوع پر خصوصی توجہ کی ایک وجہ اس نئے نمونے کے پھیلاؤ پر ان کی تاریخی ناراضی ہے۔

ہمدردانہ رویہ اور معاشرتی تقسیم سے گریز

مصنفہ کے نزدیک حجاب کے معاملے میں سب سے بڑی تزویراتی غلطی یہ ہے کہ لوگوں کو مکمل طور پر درست یا مکمل طور پر غلط کے خانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ حجاب کی شرعی اور قانونی حیثیت کو ناقابلِ انکار قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ معاشرے کے عمومی ماحول کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔

تاہم، ان کے مطابق اس ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ ان افراد کو معاشرے سے الگ کر دیا جائے جو حجاب کی پابندی میں کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ دین کے خلاف منظم مخالفت اور کسی شرعی فریضے پر عمل کرنے میں کمزوری کے درمیان واضح فرق ہے۔

مصنفہ لکھتی ہیں کہ جن خواتین کو ’’کم حجاب‘‘ کہا جاتا ہے، وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور مذہبی و قومی تقریبات میں ان کی شرکت کئی مرتبہ دین اور وطن سے ان کی وابستگی ظاہر کر چکی ہے۔ ان کے خیال میں، اس وقت جب معاشرہ ارادوں کی کشمکش سے گزر رہا ہے، اہلِ علم اور بااثر شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو دور کرنے والی زبان اور سطحی فیصلوں سے گریز کریں۔

اس چیلنج سے نمٹنے اور معاشرے کی شناخت کے تحفظ کے لیے مصنفہ خاندانوں، ذرائع ابلاغ اور حکومتی اداروں کے لیے تین سطحوں پر اقدامات تجویز کرتی ہیں۔

1۔ خاندان کی سطح پر

مصنفہ کے مطابق، محض حکم دینے کے بجائے عزت و وقار کی زبان اختیار کرکے سختی پر مبنی رویے کی جگہ دلیل اور باہمی گفتگو کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ نوجوان نسل کو حجاب کی اہمیت اس انداز میں سمجھانی چاہیے کہ وہ اسے تحفظ کا ذریعہ سمجھے، جو ان کی علمی اور سماجی صلاحیتوں پر توجہ برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو سمجھنے کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے، تاکہ نئی نسل سرمایہ دارانہ نظام کی جانب سے عورت کو ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے طریقوں کو پہچان سکے اور حقیقی آزادی اور عورت کو محض قابلِ استعمال شے بنا دینے کے فرق کو سمجھ سکے۔

2۔ ذرائع ابلاغ اور ثقافتی سرگرمیوں کی سطح پر

مصنفہ کے نزدیک مؤثر انداز میں حقائق پیش کرنا ضروری ہے۔ بے حجابی پر تنقید تک محدود رہنے کے بجائے، حجاب کرنے والی خواتین کی ٹیکنالوجی، کھیل، طب اور فنون کے شعبوں میں کامیابیوں کو بھی نمایاں کیا جانا چاہیے۔ ان کے خیال میں، ایک کامیاب اور عملی نمونہ پیش کرنا مخالفانہ مہمات کا مقابلہ کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

ذرائع ابلاغ کو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے والی زبان سے گریز کرنا چاہیے اور کم حجاب لڑکیوں کو مخالف سمجھنے کے بجائے انہیں سچائی، محبت اور دلیل کے ساتھ بات سمجھانے کا ہدف بنانا چاہیے۔

3۔ اداروں اور حکومت کی سطح پر

مصنفہ کے مطابق، حکومتی حکمتِ عملی قانون کی بالادستی اور اختیار کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے۔ عوامی مقامات پر قانون محض ذاتی پسند کا معاملہ نہیں، بلکہ معاشرے کے نفسیاتی سکون اور اخلاقی صحت کے تحفظ کے لیے ایک ضروری ضابطہ ہے۔

اسی لیے حکومت کو ان منظم نیٹ ورکس اور مخالف عناصر کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے جو حجاب کو منظم انداز میں سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ قانون شکنی معاشرے میں معمول بن جائے۔

مصنفہ کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے وقار اور احترام برقرار رکھتے ہوئے نمٹنا پولیس اور عدالتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ عوام کو دلیل کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش قانون سے دست برداری نہیں، بلکہ احکامِ الٰہی اور بندگی کے تقاضوں کو سمجھانے کی کوشش ہے، تاکہ عوامی ماحول میں اقدار کو فروغ ملے اور سماجی اصولوں کی خلاف ورزی عام نہ ہو۔

آخر میں مصنفہ سوال اٹھاتی ہیں کہ حجاب کے قانون کو مؤثر طرزِ حکمرانی کا ذریعہ کیسے بنایا جا سکتا ہے، تاکہ قانونی اختیار اور معاشرتی قبولیت و قائل کرنے کے عمل میں ہم آہنگی پیدا ہو؟

مصنفہ: زینب خاتون شیریں کار

حوالہ:

1۔ سورۂ احزاب، آیت 53: ’’یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha