28 اکتوبر 2026 - 17:04
نتن یاہو کی انتہا پسند کابینہ بنانے کے لیے دائیں بازو کی جماعتوں سے اتحاد کی اپیل

صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے کنست انتخابات کے نتائج کے بعد یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ صیہونیوں میں دائیں بازو کے دھڑے کو اکثریت حاصل ہے، یہودی جماعتوں سے انتہا پسند دائیں بازو کی کابینہ بنانے کے لیے متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور عرب جماعتوں کی اقتدار میں شمولیت کو مسترد کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو نے بدھ کے روز کنست انتخابات کے نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہودی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتہا پسند دائیں بازو کی کابینہ تشکیل دینے کے لیے ان کی قیادت میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانا قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

نتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دائیں بازو کے دھڑے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے ایک مضبوط اور متحد کابینہ تشکیل دینا ضروری ہے۔

انہوں نے یہودی اور صیہونی جماعتوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صیہونیت کی مخالف عرب جماعتوں کی حمایت سے کابینہ تشکیل دینا ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا یہ مؤقف ایک بار پھر اقتدار کے ڈھانچے میں عرب جماعتوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے ان کے سخت گیر رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم نے لیکوڈ پارٹی کو اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت قرار دیا اور ان ذرائع ابلاغ کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے پہلے ان کی جماعت کی انتخابی شکست کا امکان ظاہر کیا تھا۔

نتن یاہو نے انتخابات کے بعد سامنے آنے والے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تازہ نتائج میں بھی لیکوڈ کی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت برقرار ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب انتخابات کے بعد کے تازہ اندازوں کے مطابق لیکوڈ پارٹی اور اس کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی متوقع نشستوں کی تعداد میں بہتری آئی تھی۔ اس سے پہلے کے ابتدائی اندازوں میں گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں مخالف دھڑا معمولی فرق سے آگے دکھائی دے رہا تھا۔

انتخابات کے بعد کی صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ نتن یاہو دائیں بازو کی جماعتوں کو متحد کرکے اپنے سیاسی دھڑے کی حمایت مضبوط بنانے اور کابینہ کی تشکیل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عرب جماعتوں کے بارے میں ان کے مؤقف اور صیہونی دھڑے کے اتحاد پر زور دینے کے پیشِ نظر، اس عمل سے مقبوضہ علاقوں میں سیاسی اختلافات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha