اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل جیفری ایپسٹین کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں نمایاں ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد خصوصی تفتیش کار مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ ڈیموکریٹس نے امریکی محکمۂ انصاف پر اس معاملے سے متعلق شواہد چھپانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ڈیموکریٹس کے اس مطالبے کے باعث وسط مدتی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل ایپسٹین کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ مطالبہ ایوانِ نمائندگان کی عدالتی کمیٹی کے ڈیموکریٹک ارکان کے عملے کی تیار کردہ ایک رپورٹ پر مبنی ہے، جس کا عنوان ’’ہم میں بہت کچھ مشترک ہے، جیفری‘‘ ہے۔ اس رپورٹ میں ان خواتین کے بیانات اور مقدمات سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے بیانات کا تعلق ایپسٹین کے حلقۂ احباب سے تھا۔
امریکی جریدے نیوزویک نے بھی بتایا ہے کہ رپورٹ میں 11 خواتین کے بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹس کے مطابق، ان میں سے پانچ خواتین نے ایپسٹین سے متعلق محفلوں میں یا اس کی موجودگی میں ٹرمپ پر سنگین جنسی بدسلوکی کے براہِ راست الزامات عائد کیے ہیں۔
رپورٹ میں بیٹریس کول کا بیان بھی شامل ہے، جن کا کہنا تھا کہ 1993 میں نیویارک کے پلازا ہوٹل میں ٹرمپ اور ایپسٹین سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں اسٹیسی ولیمز کے بیان کا بھی ذکر ہے، جنہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ ایپسٹین کی موجودگی میں ٹرمپ ٹاور میں انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تھا۔
ایپسٹین کے مقدمے کی متاثرہ خواتین میں شامل ماریا فارمر کا بیان بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، انہوں نے نیویارک میں ایپسٹین کے دفتر میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس کے خلاف جنسی جرائم اور کم عمر افراد کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت کارروائی کی گئی۔ وہ 2019 میں دورانِ حراست انتقال کر گیا تھا۔ سیاسی اور معاشی شخصیات سے اس کے وسیع روابط اور جنسی استحصال کے نیٹ ورک کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کے باعث اس کا مقدمہ آج بھی امریکی عوام کی توجہ کا مرکز ہے۔
آپ کا تبصرہ